حجاج بن یوسف ثقفی  (1)

حجاج بن یوسف ثقفی  (1)

ابومحمدحجاج بن یوسف ثقفی ۴۰ھ /660ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد طائف کے معزز لوگوں میں سے تھے۔ طائف کے پُرفضا ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، جو کہ ایک مدرّس تھے۔ طائف کے ماحول کے مطابق قرآن کریم حفظ کیا۔ قرآن و حدیث کی تفسیر و تفہیم کے لیے اکابر علما سے کسب ِفیض کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد تدریس کا پیشہ اختیار کیا، تاہم وہ اپنے اس منصب سے مطمئن نہ تھے۔ وہ کسی طرح طائف سے دارالخلافہ دمشق پہنچے اور خلیفۂ وقت تک رسائی حاصل کی۔ خلیفہ عبدالملک نے ان کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے پہلے اُن کو فوج میں اہم منصب عطا کیا۔ پھر شورش زدہ صوبہ عراق کا گورنر بنایا، جہاں سے آئے دن بغاوت کی خبریں آتی رہتی تھیں۔ عراقی باشندے جو ہمیشہ باغیانہ کارروائیوں میں سرگرم رہتے تھے، حجاج نے اپنے دورِ حکومت میں اُن باغیوں کی سرکوبی کی اور پورے علاقے میں امن و امان قائم کیا۔ وہ نہایت فصیح و بلیغ اور شعر و خطابت پر بے پناہ دسترس رکھتے تھے۔ 
تاریخ میں حجاج بن یوسف کے بارے میں بہت کچھ رطب و یابس ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جب خطے میں عادلانہ نظام کے خلاف کچھ لوگ بغاوت پر اُتر آئیں، اُس بغاوت کو فرو کرنا بھی حکمران کی ذمہ داری ہوتی ہے، تاکہ معاشرے میں امن و امان قائم رہے اور انارکی نہ پھیلے۔ جو قوم سرکشی اور بغاوت کی عادی ہوجائے اور کسی حکمران کو ٹکنے نہ دے، اُسے حاکمِ وقت کی نرمی مزید سرکش بنا دیتی ہے۔ حجاج بن یوسف کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے خوارج کے خلاف مؤثر کارروائی کی۔ خود لشکر کی کمان کرتے ہوئے شعیب خارجی کو شکست دی، باغیوں کو ٹھکانے لگایا اور بغاوتوں کا سر کچلا۔ 
حجاج بن یوسف کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے ہندوستان کی فتح کے لیے محمدبن قاسم کو روانہ کیا۔ اس کے حکومت کرنے کا طریقہ محمدبن قاسم کے نام ۲۰؍ رجب ۹۳ھ / 2؍ مئی 712ء کو لکھے گئے اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ: ’’جاننا چاہیے کہ ہمارے دل کے ارادے اور ہمت کا یہی تقاضا ہے کہ تمھیں ہر حال میں کامیابی حاصل ہو اور (انشاء اللہ تعالیٰ) تم کامیاب اور فتح مند ہوگے اور اللہ عز و جل کے احسان سے دشمن دنیا کی سزا اور عاقبت کے عذاب میں ہمیشہ گرفتار اور مغلوب رہیں گے۔ اور ہرگز یہ بدگمانی نہ کرنا کہ دشمن کے یہ ہاتھی، گھوڑے اور سامان و اسباب تمھارے آڑے آئیں گے۔ ۔۔۔ جو بھی قلعہ فتح ہو (اس میں سے) لشکر کی ضروریات کی جو بھی چیز ہاتھ آئے، وہ (لشکر پر) خرچ اورتیاری میں صَرف کرنا۔ کھانے پینے کی ضروری چیزوں سے جتنا ممکن ہوسکے (کسی کو) روک ٹوک نہ کرنا۔ ارزانی اور فراوانی کے لیے سعی بلیغ کرنا، تاکہ لشکر میں غلہ سستا رہے۔ دیبل میں جو کچھ بچایا گیا ہے، اسے قلعہ میں ذخیرہ کرکے رکھنے کے بجائے لوگوں پر صَرف کرنا بہتر ہے۔ کیوںکہ ملک فتح ہونے اور قلعوں کے قبضے میں آنے کے بعد رعایا کے آرام اور باشندوں کی دلجوئی کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر کسان، صنعت کار، دست کار اور تاجر آسودہ ہوں گے تو ملک سرسبز اور آباد رہے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ‘‘   (چچ نامہ) 
 

Source: Rahimia Magazine November,2020
Tags
No Tags Found
Mufti Muhammad Ashraf Atif
Mufti Muhammad Ashraf Atif

استاذ الحدیث و الفقہ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور