دُنیا کے ساتھ ساتھ

محمد کاشف شریف
محمد کاشف شریف
جنوری 09, 2021 - معاشیات
دُنیا کے ساتھ ساتھ

پاکستان کی آبادی 22 کروڑ نفوس کے لگ بھگ ہے، جو اسے آبادی کی بنیاد پردنیا کا ساتواں بڑا ملک بنادیتی ہے۔ آج کے دور میںمعیشتوں کے استحکام کی بنیادیہ ہے کہ اس معیشت کی مقامی کھپت کیسی ہے؟ اس بنیاد پر پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس پیداوار کی کھپت کو ہر لحظہ بڑھانے کے لیے نت نئی مصنوعات متعارف کروائی جاتی ہیں۔ میڈیا کی طاقت سے انھیں انسانی زندگیوں کا لازمی حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ کسی جنس (commodity) کی کامیاب پذیرائی پر اسے بیرونِ ملک بھی متعارف کروایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے برآمدات میں اضافے کی دوڑکا آغاز ہوجاتا ہے۔ یہ وہی معاشی ماڈل ہے، جس کی پیروی میں یورپی طاقتیں عالمی سامراج کی حیثیت اختیار کر گئیں۔ اُن طاقتوں نے اپنی اپنی اجارہ داری کو مضبوط کرنے کے لیے منڈیوں پر قبضہ کیا۔ بڑی بڑی فوجیں بنائیں۔ اس مقصد کے لیے قرضوں کا سہارا لیا گیا۔ ان خساروں کو پورا کرنے کے لیے ایشیا اور افریقا کا رُخ کیا گیا۔ لیکن اکیسویں صدی میں چین اور بھارت جیسی تازہ دم معاشی قوتوں نے مذکورہ ماڈل میں کئی جوہری تبدیلیاں کردی ہیں، جس میں اوّل درجے پر اپنی مقامی آبادیوں کی قوتِ خرید میں بہ تدریج اضافہ اور اس سے پیدا ہونے والی طلب کو مقامی پیداوار سے پورا کیا جائے۔ اس عمل میں ان ملکوں کی آبادی ہی ان کا سب سے بڑا سرمایہ بن چکی ہیں۔ چناںچہ متنوع اشیائے صَرف اور ان میں پیچیدہ ربط دراصل معاشی سرگرمیوں کو روز افزوں ترقی دیتا جارہا ہے۔ دنیا میں متعارف ہونے والی اجناس ان معیشتوں کا رخ کرتی ہیں، جہاں ان کی کھپت مؤثر انداز میں ہو سکے۔
ایک بڑی آبادی کا ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان بھی اس عالمی رسد کے نیٹ ورک کا حصہ ہے، لیکن بد قسمتی سے یہ ابھی تک پرانے معاشی ماڈل پر ہی چلنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ہمارا دہائیوں پر محیط تجارتی خسارہ اور بے پناہ قرضے اس کا ثبوت ہیں، جس میں عموماً اضافہ ہی دیکھا گیاہے۔ قرضے اتارنے کے لیے پاکستانی عوام ہی ہے۔ ہمیں یورپی قوتوں کی طرح نوآبادیات کی سہولت میسر نہیں۔ معاشی بقا کے لیے حکومت نے تدریجاً اصلاحات کا عمل جاری رکھا ہوا ہے، جیسے کپڑے اورتعمیراتی شعبوں سے متعلق صنعتیں اب کروٹ لیتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں۔ دوسری طرف الیکٹرک گاڑیوں اور موبائل فون کی مقامی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے حال ہی میں ٹیکس میں مراعات کا پیکج دیا گیا ہے، جس پر مکمل عمل درآمد کی صورت میں پاکستان کو قریباً دو ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ تیل کی درآمد میں بھی بہ تدریج کمی آئے گی۔ لیکن یہ سب کاوشیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتیں، جب تک پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہے گا۔ کیوںکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی ملکی معیشت کو پھر سے صفر پر لے جاتی ہے۔ ہمارے اوپر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا جال سالانہ بنیادوں پر ہماری آمدن کا 40    فی صد ہڑپ کرجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا گھن چکر ہے کہ ساری محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ یہ کام مشکل ہے، لیکن اپنے خطے کی اُبھرتی معاشی قوتوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ چلنے کے لیے ان قرضوں کے بوجھ میں تدریجاً کمی ناگزیر ہے۔