
حریت و آزادی کی تحریک ’’تحریکِ ریشمی رومال‘‘ میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے دستِ راست، صدر انڈین نیشنل کانگریس ڈاکٹر مختار احمد انصاریؒ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ انصاریؒ انھیں کے بھانجے اور دامادہیں۔ انھیں ڈاکٹر مختار احمد انصاریؒ نے بچپن ہی میں اپنا بیٹا بنا لیا تھا ااور ان کی تربیت پر خاص توجہ دی۔ ڈاکٹر شوکت اللہ انصاریؒ ۱۲؍ ربیع الثانی۱۳۲۶ھ / 12؍ مئی 1908ء کو یوسف پور، محمد آباد، غازی پور (اُتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ موصوفؒ کے والدِ گرامی امجد اللہ شاہؒ مرزا پور (یوپی) میں ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پر فائز تھے۔ امجد اللہ شاہؒ اپنے علاقے کی معزز اور قابل شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ڈاکٹر شوکت اللہ شاہؒ نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ ان کی تعلیم و تربیت ڈاکٹر مختار احمد انصاریؒ کی نگرانی میں ہی ہوئی۔ اسی تعلیم اور تربیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ کم عمری میں ہی ملکی سیاسی حالات پر ان کی دسترس بے مثال تھی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعدمزید تعلیم حاصل کرنے کا شوق انھیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی لے گیا۔ وہاں سے فراغت کے بعد جنیوا ہائی اسکول (سوئٹزرلینڈ) میں داخل ہوئے۔ بعد ازاں یونیورسٹی آف پیرس (فرانس) سے ڈاکٹر آف میڈیسن کی ڈگری حاصل کی۔ موصوفؒ کی جوانی کی ابتدا میں ہندوستان کا ایسا دور تھا، جو ہندوستان کی سیاست کے حوالے سے بہت اہم خیال کیا جاتا ہے۔ تحریکِ ترکِ موالات، تحریکِ ریشمی رومال، تحریکِ خلافت اور تحریکِ ہجرت ایسی تحریکات سے بھرپور دور میں موصوفؒ نے سیاسی شعور حاصل کیا۔ ان تحریکات کے علاوہ ڈاکٹر مختار احمد انصاریؒ کے سرگرم کردار کی وجہ سے گھر میں قومی رہنمائوں اور کارکنوں کے مستقل آتے جاتے رہنے سے بھی ان کے سیاسی شعور میں اضافہ ہوا۔ موصوفؒ نے ہندوستان واپسی سے قبل سوشلزم کا بہ غور مطالعہ کیا۔ وہ اس نظام کی خوبیوں کے معترف تھے، بلکہ باقاعدگی سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی مالی مدد کی۔ 1937ء میں چاندنی چوک (دہلی) میں طب کی پریکٹس شروع کی اور بہت جلد مقبولیت حاصل کرلی۔ سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے کانگریس کا انتخاب کیا اور جمعیت علمائے ہند سے بھی وابستہ ہوگئے۔ موصوفؒ نے ان دونوں پلیٹ فارمز سے تحریکِ آزادی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ آپؒ ہندوستان کی کامل آزادی کے حامی تھے اور اسی کے حصول کے لیے کردار ادا کرتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب بائیں بازو کی جماعت نے فرقہ وارانہ سیاست کی حمایت کی تو وہ سی پی آئی سے الگ ہوگئے۔ ڈاکٹر شوکت اللہ انصاریؒ نے قوم پرست مسلمانوں کو ’’آزاد مسلم بورڈ‘‘ کے پرچم تلے منظم کیا۔ باہمی تفریق اور انتشار کو ختم کرنے کی غرض سے اور بورڈ کے صدر کی حیثیت سے انھوں نے فرقہ وارانہ سیاست کے تصور اور اس کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ اپنی تحاریر اور تقاریر کے ذریعے کامل آزادی کے تصور کو ہر جگہ اُجاگر کیا۔ جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کے ذریعے کامل آزادی کے تصور اور نظریے پر تقسیمِ ہند تک جدو جہد کرتے رہے۔ سیاسی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ محض 31 سال کی عمر میں 3 تا 5؍ مارچ 1939ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کے 11 ویں اجلاس کا خطبہ استقبالیہ ڈاکٹر شوکت اللہ انصاریؒ نے پیش کیا تھا۔ آپؒ کا بیان کیا ہوا یہ خطبہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں بہت اہم اور سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذکورہ خطبے میں آپؒ نے نہ صرف وطنِ عزیز کے مسائل کو سامنے رکھ کر رہنما اُصول واضح کیے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کی جانب بھی توجہ دلائی۔ جس طرح تقسیم ہند سے قبل ان کی زندگی کا بیش تر حصہ قومی سیاسی سرگرمیوں میں صَرف ہوا اور سرگرم کردار ادا کیا، اسی طرح بعد میں بھی ہندوستان کی ملکی سیاست میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ ملک کے اندر اور باہر اپنی قوم کی بھرپور نمائندگی کی اور اپنے فکر و عمل سے مسائل کو حل کرنے کی جانب توجہ دی۔ خاص طور پر ملک کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے انتشار کے حالات میں باقی مسلم رہنمائوں کے ساتھ مل کر ہندو مسلم فسادات کو روکنے اور نفرت کی آگ کو بجھانے میں بھی پیش پیش رہے۔ اس دوران آپؒ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تقسیمِ ہند کے فوراً بعد 1948ء میں انقرہ (ترکی) میں ہندوستانی سفارت خانے میں کونسلر کے عہدے پر مقرر ہوئے۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ اہم دور تھا، جس میں دیگر ممالک کے ساتھ رابطوں اور تعلقات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ موصوفؒ نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ترکی سے واپسی پر پھر عملی سیاست میں سرگرم ہوئے۔ 1947ء تا 1949ء دہلی یونیورسٹی کورٹ کے ممبر کے طور بھی خدمات انجام دیں۔ 1951ء میں ریاست حیدرآباد کے علاقے ’بیدر‘ سے ہندوستان کی پہلی ’’لوک سبھا‘‘ (قومی اسمبلی) کے لیے الیکشن میں حصہ لیا اور نمایاں ووٹوں کے ساتھ منتخب ہوئے۔ پارلیمنٹ کے رُکن کے طور پر آپؒ نے امورِ خارجہ کی مشاورتی کمیٹی میں بھی خدمات انجام دیں۔ 1954ء اور 1955ء میں وہ ہندوستانی وفد کے رُکن کے طور پر اقوام متحدہ گئے۔ 1957ء میں ’بین الاقوامی کنٹرول کمیشن‘ کے چیئرمین نامزد ہوئے، ذمہ داریاں نبھائیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ جولائی 1958ء تا ستمبر 1960ء آپؒ نے ویت نام میں انٹرنیشنل کنٹرول کمیشن میں خدمات انجام دیں۔ 1955 ء میں جنیوا میں بین الاقوامی لیبر کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1960ء میں آپؒ کو سوڈان اور کانگو میں ہندوستان کا سفیر مقرر کیا گیا۔ آپؒ نے 31؍ جنوری 1968ء کو اڑیسہ کے گورنر کا عہدہ سنبھالا اور 1971 ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ الغرض! ڈاکٹر انصاریؒ نے ملکی قومی سیاسی حوالے سے بہت مصروف وقت گزارا۔ نہ صرف یہ کہ خودجدوجہدِ آزادی میں قائدانہ کردار ادا کیا، بلکہ اپنی اہلیہ اور ڈاکٹر مختار احمد انصاریؒ کی بیٹی زہرہ انصاری کی بھی اس جدوجہد میں حمایت کی اور ساتھ دیا۔ عملی کردار کے ساتھ ساتھ آپؒ نے اپنے مضامین اور کتب کے ذریعے بھی سیاسی سماجی شعور کو اُجاگر کیا۔ ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی، جو غالباً اس عنوان پر پہلی کتاب تھی۔ جدوجہد سے بھرپور وقت گزار کر موصوفؒ29؍ دسمبر 1972ء کو اللہ کو پیارے ہوگئے۔ (ماخوذ: ماہنامہ ’’رحیمیہ‘‘ اگست 2023ء)
ٹیگز
وسیم اعجاز
جناب وسیم اعجاز مرے کالج سیالکوٹ میں زیر تعلیم رہے اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے گریجویٹ ہیں۔ آج کل قومی فضائی ادارے PIA کے شعبہ انجینئرنگ میں پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 1992ء میں حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ کے دامنِ تربیت سے وابستہ ہوئے۔ حضرت مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلہ کی زیر سرپرستی تعلیمی ، تربیتی اور ابلاغی سرگرمیوں میں ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ برعظیم پاک و ہند کی سماجی و سیاسی تاریخ، حریت پسند شخصیات کے احوال و وقائع ان کی دلچسپی کے خاص میدان ہیں۔ اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں ۔ مجلہ "رحیمیہ" لاہور میں گزشتہ کئی سالوں سے "عظمت کے مینار" کے نام سے سلسلہ وار لکھ رہے ہیں۔
متعلقہ مضامین
مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا ایک عظمت افروز واقعہ
مولانا عبیداللہ سندھیؒ ہمارے مطلع تاریخ کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ ان عالی ہمت بزرگوں کا کردار آج کی نسلوں کے لیے مَشعَلِ راہ ہے۔ جمیل مہدی کی کتاب ’’افکار و عزائم&l…
حضرت مولاناعبداللہ لغاریؒ
امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے قریبی ساتھیوں میں ایک اہم نام حضرت مولانا عبد اللہ لغاریؒ کا بھی ہے۔ ان کا تعلق ضلع گھوٹکی (صوبہ سندھ) کے ایک گائوں ’’دا…
حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ جروار مریؒ
حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ جروار مریؒ حضرت مولانا عزیز اللہ جرواؒر کا شمار بھی امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ وہ سندھ میں ضلع لاڑکانہ کی تحص…
حضرت مولانا ابو حامد محمدمیاں منصورانصاریؒ
تحریکِ ریشمی رومال کے قائدین میں ایک اہم ترین نام حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاریؒ کا بھی ہے، جنھوں نے اس تاریخی تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ مولانا انصاریؒ 10؍مارچ …
