بنواُمیہ یورپ میں(1)

بنواُمیہ یورپ میں(1)

تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ملک جس کو آج کل سپین کہتے ہیں اور عرب اس کو اندلس کہتے ہیں، اس ملک پر گاتھ بادشاہی کے عہد میں راڈرک کی حکومت تھی۔ اس عہد میں وہاں کی اقتصادی اور انتظامی حالت بہت خراب تھی۔ یہ لوگ عیسائی تھے۔ پادریوں کو بڑا عروج حاصل ہوگیا تھا۔ ان کے پاس بڑی بڑی جاگیریں تھیں۔ وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے تھے، جب کہ عام لوگ بہت خستہ حال اور بنیادی ضروریات سے بھی محروم تھے۔ 


ادھر بنواُمیہ کے ولید بن عبدالملک کے عہد ِحکومت میں موسیٰ بن نُصَیر کو افریقا کا گورنر بنا دیا گیا۔ جس میں طرابلس، تیونس، مراکش اور الجزائر کے علاقے آتے تھے۔ قیروان اس کا مرکز تھا۔ موسیٰ بن نُصَیر کے پاس آئے دن التجائیں آئیں کہ اندلس کے باشندوں کو گاتھ بادشاہوں کے ظلم سے نجات دلاؤ۔ ان درخواستوں کے پیچھے شمالی افریقا کے ایک علاقے کا عیسائی گورنر پیش پیش تھا۔ کہتے ہیں کہ اسے راڈرک سے سخت دشمنی تھی۔ اس لیے کہ راڈرک نے اس کی بیٹی کی عزت و آبرو پر حملہ کیا تھا۔ چناںچہ ان کی درخواست پر موسیٰ بن نُصَیر نے پہلے اپنے ایک بہادر جرنیل طُریف کو ایک فوجی دستے کے ساتھ اندلس بھیجا۔ اس نے کامیاب کارروائی کی۔ اندلس کے جنوب مشرق کی طرف ایک مقام ہے، جس کا نام ’’طریفہ‘‘ ہے، یہ اسی جرنیل کے نام سے منسوب مقام ہے، جو اس کی سرگرمیوں کا زندہ گواہ ہے۔ اس کارروائی کے بعد اندلس کے عمومی حالات کا اندازہ ہوا تو موسیٰ بن نُصَیر نے تقریباً پانچ ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ طارق بن زیاد کی سپہ سالاری میں اندلس بھیجا۔711ء کا واقعہ ہے کہ طارق نے جس جگہ سے سمندر پار کیا، وہاں سے سمندر کا پاٹ کم تھا۔ اس جگہ کو آج بھی ’’جبل الطارق‘‘ یا جبرالٹر کہتے ہیں۔ اس نے دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی کشتیاں جلا دیں۔ یہ اس لیے کیا، تاکہ مجاہدین پر واضح ہوجائے کہ اندلس کو فتح کیے بغیر واپس جانا ناممکن ہے۔ مزید دو ہزار کی کمک پہنچ گئی۔ 19؍ جولائی 711ء کو دریائے برباط کے کنارے راڈرک کی فوج سے مقابلہ ہوا۔ 


طارق بن زیادہ نے اس موقع پر اپنی فوج سے خطاب کیا اور اس کا حوصلہ بڑھایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عربوں کے مقابلے میں راڈرک کی فوج بہت زیادہ تھی۔ اس جنگ میں راڈرک کو شکست ہوئی اور مسلمانوں کو اللہ نے فتح یاب کیا۔ اس جنگ نے یورپ بالخصوص اندلس (سپین) کی فتح کا دروازہ کھول دیا۔ اس جنگ کے بعد طارق بن زیادہ نے طیطلہ کا رُخ کیا، جو اندلس کا دارالحکومت تھا۔ وہاں کے مقامی لوگوں نے مسلمان سپہ سالار اور اس کے سپاہیوں کو خوش آمدید کہا، اسلامی فوج کا خیر مقدم کیا، جو گاتھ بادشاہوں کے ظلم و ستم سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ طارق بن زیاد کی فتوحات جاری تھیں کہ موسیٰ بن نُصَیر بھی دس ہزار غازیوں کے ساتھ 712ء میں اندلس پہنچ گیا۔ اس طرح تھوڑی مدت میں اندلس کے چھوٹے بڑے شہر فتح ہوگئے۔

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مفتی محمد اشرف عاطف
مفتی محمد اشرف عاطف

استاذ الحدیث و الفقہ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور