افغانستان اور پاکستان کا معاشی مستقبل

محمد کاشف شریف
محمد کاشف شریف
ستمبر 10, 2021 -
افغانستان اور پاکستان کا معاشی مستقبل

افغانستان‘ تاریخ کے اَن مِٹ نقوش کا حامل خطہ ہے، جو صدیوں پرانے طاقت ور خاندانوں اور ان کی بادشاہتوں کا مرکز رہا ہے۔ یہ بدیسی طالع آزماؤں کا تختۂ مشق بھی رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں آزادی کی تحریکات کا سرخیل بھی رہا اور عالمی قوتوں کا میدان جنگ بھی رہا ہے۔ آج پھر ایسی تبدیلی کا شکار ہے جو خطے کی قوتوں کی نہ ختم ہونے والی مخاصمت کا نتیجہ ہے۔ اس چپقلش کی روحِ رواں عصرِ حاضر کی عالمی طاقتیں اب اس خطے کو پہلے سے کہیں زیادہ جانتی ہیں۔ یہاں کے اب تک معلوم معدنی وسائل __ جو ایک اندازے کے مطابق دس کھرب ڈالر کی مالیت کے ہیں __ دراصل یہاں اس سیاسی اور معاشی کھینچا تانی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ ان معدنی وسائل میں ریئرارتھ میٹل(Rare Earth Metals)اور لیتھیم(Lithium)جیسی دولت دراصل مستقبل کی سب سے بڑی دولت ہے، جو روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے موبائل فون، میڈیکل تشخیص کے آلات، ہوائی صنعت سے لے کر خلائی دریافتوںاور دیگر سیّاروں پر کمند ڈالنے کی ٹیکنالوجی والے آلات کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

گزشتہ ستر سالوں میں پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے خلاف خوب استعمال ہوئے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سکندر مرزا ہو یا سردار داؤد، ضیاء الحق ہو یا حامد کرزئی، سب نے پاکستان اور افغانستان کی کنفیڈریشن کے خواب دیکھے ہیں۔ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے امریکی آقا بھی تیار تھے۔ چناں چہ صدر اوباما ایڈمنسٹریشن میں پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کنٹرول کرنے کے لیےAfPakکا استعارہ تواتر سے استعمال کیا جاتا رہا۔ یہ ممکن نہیں کہ ان دو خطوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ملکوں میں ڈیورنڈ لائن کو حتمی سرحد کے طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ چناں چہ اس پر پاکستانی حکومت کی جانب سے باڑ کی تعمیر کو سرحد کے دونوں طرف آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ اس 2640 کلومیٹر کی سرحد کو روزانہ اوسطاً پچاس ہزار افراد اور 400ٹرک لگ بھگ چھ مختلف مقامات سے کراس کرتے ہیں، جو طالبان کے انتظام سنبھالنے کے بعد تین گنا بڑھ چکے ہیں۔

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت تمام تر نفرتوں اور کدورتوں کے باوجود جاری ہے، جو کُل افغان درآمدات کا 55 فی صد ہے، جب کہ پاکستان سالانہ بنیادوں پر قریباً ایک ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حتمی اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیوں کہ اربوں ڈالر پاکستان سے صرف کاغذی کارروائی میں درآمدات و برآمدات کی مد میں جاتے اور آتے ہیں، تاکہ اندرونی و بیرونی یار لوگوں کی کرپشن سے کمائی ہوئی دولت کو قانونی تحفظ مل سکے۔

اگر پاکستان اور افغانستان کی سیاسی صورت حال کو متوازی رکھ کر دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ پاکستانی مقتدرہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں ایسے دخل اندازی کرتی ہے، جیسے یہ پاکستان کا کوئی صوبہ ہو۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ افغانستان کی سیاسی صورتِ حال سے پاکستانی مقتدرہ صَرفِ نظر کرے۔ طالبان کی صورت نئی تشکیل میں ہماری مقتدرہ کا کلیدی کردار ہے۔ پاکستان کے لحاظ سے یہ بہ ظاہر ایک مثبت تبدیلی ہے۔ تمام مقامی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کے حوالے سے طالبان کے حالیہ بیان اور پاکستان سے روزمرہ استعمال کی درآمدی اشیا پر ٹیکس کی کمی کا اعلان دراصل ایک بہتر مستقبل کی نوید سنا رہا ہے۔ اگر پاکستان اور مقامی علاقائی قوتیں اس تبدیلی کو اپنے حق میں کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو ان دونوں ممالک کا معاشی مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین
معاشی پھیلاؤ کا بجٹ

آمدہ سال حکومت 131 کھرب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خود حکومتی اندازے کے مطابق قریباً 79 کھرب روپے وصول کیے جاسکیں گے۔ باقی رقم اندرونی اور بیرونی قرض…

محمد کاشف شریف جولائی 08, 2021

وسط مدتی رپورٹ

موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ملکی معاشی ڈھانچے میں بہتری اور اس کے نتیجے میں معاشی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کے بیانیے میں کتنی حقیقت ہے؟ اس بات کا اندازہ …

محمد کاشف شریف اپریل 27, 2021

وسط مدتی رپورٹ  (2)

4۔ سالانہ پیداوار: پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ مقامی پیداوار کا ایک بہت بڑا حصہ مقامی سطح پر ہی استعمال ہو جاتا ہے، لیکن اس عمل کو مستحکم ہونے ک…

محمد کاشف شریف مئی 16, 2021

اپنے کندھوں پر نظام کی صلیب اُٹھائے سیاست دان

ہمارے ملک میں گزشتہ مہینے کے بیتے واقعات نے ایک بار پھر ہمارے سیاسی نظام، پارٹیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے چہروں سے نقاب کو سِرکا دیا ہے۔ وہ لوگ جو اسی…

محمد عباس شاد اپریل 17, 2021