حجۃ اللہ البالغہ | 170 | حقوقِ زوجیت ، بقیہ اصول اور طلاق کا قانون | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

تفصیل

احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس

درس : 170

قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات

تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 07 ، 08
حقوقِ زوجیت پر مشتمل بقیہ اصول و ضوابط اور ازدواجی تعلق میں رخنہ کی صورت میں طلاق کا قانون

مُدرِّس:
حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری

بتاریخ: 26؍ جنوری 2022ء

بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *
👇
0:00 آغاز درس
0:22 احادیث کی روشنی میں حقوقِ زوجیت کی وضاحت ( باب: 07 کا بقیہ حصہ)
0:41 ۶۔ مرد عورتوں کے نگران (الرِّجَال قوامون على النِّسَاء بِمَا فضل الله الخ) کی روشنی میں مرد و عورت کے تعلقات کی وضاحت
10:06 شاہ صاحبؒ کی تشریح: چار جبلی صلاحتیں اور مال خرچ کرنے کی ذمہ داری کی اساس پر فیصلہ سازی اور خاندان کا سربراہ بننے کا حق خاوند کو حاصل
17:17 ٹیم کے ذمے امور کی خلاف ورزی کرنے پر ٹیم لیڈر کو سزا دینے کا اختیار (میاں و بیوی کے تعلقات کے تناظر میں وضاحت) مرد و عورت میں جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے دونوں خاندانوں میں سے ایک ایک حَکَم مقرر کرنا بہتر
27:17 ۷۔ دھوکہ دہی اور خفیہ طور پر کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف یا ملازم کو کمپنی کے خلاف ذہن سازی کرنا اور اکسانا ناجائز، تشریح
30:41 ۸۔ گھریلو نظام کے فساد میں رائج عادتیں اور ان کا انسداد ضروری
31:39 ایک سے زیادہ عورتوں سے نکاح اور حقوق میں ایک کو باقیوں پر ترجیح دینے کی ممانعت
34:52 دو بیویوں کے درمیان عدل و انصاف نہ کرنے والے کی سزا
36:18 اہل جاہلیت میں رواج پزیر دیگر فساد کی باعث عادتیں
40:25 ۹۔ حقوقِ زوجیت میں تقسیم کا قانون ، باری کے دن مقرر کرنے اور قانون بنانے کی مصلحتیں
49:33 ۱۰۔ نبی اکرم ﷺ کا سفر کے لیے ازواج مطہرات میں قرعہ اندازی کرنا
54:02 ۱۱۔ عرب معاشرے میں رائج غلامی کے نظام میں آزادی کے بعد عورت کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار ، ایک آزاد عورت کا غلام کے نکاح میں ہونا باعثِ شرم و عار نیز فسخ نکاح کے مسئلے میں ائمہ اربعہ کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کا موقف
1:01:08 ازدواجی تعلق میں دراڑ پیدا ہونے کی صورت میں طلاق کا قانون ( باب: 08)
1:01:23 (۱) بغیر کسی وجہ کے عورت کا طلاق کا مطالبہ کرنا ، اس کی رسم جاری ہونا ، گھریلو اور ملکی نظام کی تباہی کا باعث ، چند بڑی خرابیاں
1:11:02 ایک طرف طلاق مبغوض ترین عمل لیکن چار وجوہات کی بنا پر رشتہ ختم کرنا بھی ضروری
1:15:51 (۲) تین قسم کے لوگ مرفوع القلم
1:17:05 (۳) معرکة الآراء مسئلہ: مُکرَه (مجبور) کی طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ ائمہ کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کا موقف
1:23:10 (۴) بغیر نکاح کے طلاق واقع نہیں ہوتی ، معلق طلاق میں فقہا کا اختلاف اور دلائل
1:28:16 (۵) اہل جاہلیت میں جب مرضی طلاق اور جب مرضی رجوع کا دین اسلام نے خاتمہ کیا اور طلاق کی قانونی حد کا متعین کردی ، تین وجوہات
1:35:42 (۶، ۷) امراةِ رفاعہ کا واقعہ ، نکاح کی تمامیت ، تعلق قائم کرنے پر موقوف نیر حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر لعنت ، بنیادی وجہ
1:39:38 (۸) حالتِ ماہ واری میں طلاق واقع کرنا جائز نہیں ، اس کا راز؛ طبعی و عقلی بغض کا فرق
1:44:41 طہر میں طلاق سے پہلے عورت سے تعلق قائم نہ کرنا؛ دو وجوہات
1:45:27 (۹) دو گواہوں کی موجودگی میں طلاق دینا اور اس کی بنیادی حکمت
1:46:46 (۱۰) تین طلاقیں اکٹھی ایک طہر میں واقع کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ فعل

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

پلے لسٹس
حُجّةُ اللّٰه البالِغة
وقت اندراج
مارچ 14, 2024