احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروسدرس :31 مبحثِ سوم: انسانی ضروریات و احتیاجات کی تسکین پر مبنی نظامِ ارتفاقات باب: 05 ارتفاقِ دوم میں تبادلۂ اشیا، تعاون باہمی، دولتِ پیدائش اور مہارتوں و پیشوں کے علوم کی اہمیت مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 28 ؍ اگست 2018ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 0:14 ارتفاقِ دوم کی بقیہ تین حکمتیں: تبادلۂ اشیا، تعاون باہمی، دولتِ پیدائش اور پیشوں سے متعلق امور 4:03 ان تین حکمتوں کے وجود کی ضرورت کے اسباب اور پیشے اخیتار کرنے کی وجوہات 14:47 تبادلۂ اشیاء کے لیے بطور آلہ ، سونا چاندی (زر) کی تعیین کے لیے شرائط و ضوابط 28:54 زر بطور آلۂ مبادلہ ، اجناس کے تبادلے کا ذریعہ ہے اور سرمایہ دارانہ ظلم پر مبنی نظریۂ زر کے دنیا پر مکروہ اثرات و نتائج 33:03 پیدائشِ دولت کے ذرائع: زراعت، صنعت اور تجارت اور ان کا ارتقائی سفر 37:35 اجتماعیت کے قیام کے لیے حکومت کے شعبہ کا قیام اور حاجات و آسائش و تعیش کے لیے مزید پیشوں کا وجود 40:50 انسان کے کسی پیشے کو اختیار کرنے کے اسباب و وجوہ کے دو دائرے 47:30 پیشہ وارانہ مہارتوں اور صلاحیتوں سے نابلد لوگ ، ملک کے لیے نقصان دہ پیشے اختیار کرتے ہیں۔ 51:35 تبادلۂ دولت کی دو صورتیں بیع و اجارہ 52:55 اجتماعیت میں الفت و محبت کے فروغ کے لیے تعاون باہمی کے شعبے: ھبہ، عاریت اور صدقات و عطیات 56:25 افراد کی صلاحیتوں کے اعتبار سے تعاونِ باہمی کا نظام: مزارعت ، مضاربت ، اجارہ و شرکت داری وغیرہ اور عہدِ حاضر میں ان شعبوں کا ظالمانہ و استحصالی کردار 1:09:14 ہر خوشحال اور مہذب معاشرے میں عدل و انصاف پر مبنی تعاونِ باہمی کے پیشوں اور مہارتوں کا فروغ پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/