خطبات

اسلام کے نام پر سیاست اور سامراجی مفادات کا کھیل دینِ حق کی جامع فکر کی روشنی میںخُطبۂ جمعۃ المبارک: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 12؍ شعبان المعظم 1445ھ / 23؍ فروری 2024ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ، كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ (61 – الصّف: 2-3) ترجمہ: ”اے ایمان والو ! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ بڑی بیزاری کی بات ہے اللّٰه کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: "مَن هؤلاءِ يا جبريلُ؟" قال: "خُطَباءُ أمتِكَ الذينَ يقولونَ ما لا يفعلونَ ويقرؤونَ كتابَ اللهِ ولا يعملونَ بِه". (أخرجه أحمد (13421)، والبزار (7231)، وأبو يعلى (3992) باختلاف يسير) ترجمہ: (رسول اللّٰه ﷺ نے ــ ایک طویل حدیث میں ــ جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا): "اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟" حضرت جبرئیلؑ نے فرمایا: "یہ آپ کی اُمّت کے خطیب ہیں، یہ وہ بات کہتے ہیں، جو خود نہیں کرتے۔ اور اللہ کی کتاب (قرآن) پڑھتے ہیں، لیکن اس پر عمل نہیں کرتے". ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 0:00 آغاز 1:22 انبیا علیہم السلام کا بنیادی ہدف اور انسانی ترقی کے تین ضروری لوازمات 9:36 عبادات کے طریقے کیوں مطلوب ہیں؟ ان کی علت اور حکمت، تقاضے اور نتائج 16:04 رحمانی خیال، مَلَکی خیال اور شیطانی خیالات کا فرق اور اثرات و نتائج 22:17 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشاد کی روشنی میں انسانوں کی دو اقسام 24:49 دین کے جامع تصورکا تاریخی تسلسل اور حضرت مجددؒ و امام شاہ ولی اللہؒ کا کردار 28:51 دین کے بنیادی شعبوں کے ناقص تصور اور انکار کے منفی اثرات و نتائج 30:03 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر وشان نزول اور مختصر تفسیری خلاصہ 37:44 حدیث میں چرب زبان خطباء واعظوں اور لیڈروں کے انجام کی نشان دہی 44:42 دین کے جامع تصور اور شعبوں سے انحراف کی صورت میں اداروں کا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے 47:06 عادل حکمرانوں اور صوفیائے کرام کا علمی و فقہی مقام اور عملی و سیاسی کارنامے 51:40 سامراجی سیاسی نظام کے اثراتِ بد اور عوام پر اس کے اثرات و نتائج 56:52 سیرۃُ النبیؐ کی روشنی میں سیاست کی بنیادی تعریف، مقاصد، مصلحتیں اور اہداف و نتائج 1:03:36 نظامِ ظلم میں سیاسی و مذہبی پارٹیوں کی حیثیت اور ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ 1:06:43 موجودہ الیکشن میں جمہوریت اور قانون کے نام پر مخصوص قوتوں کا کھیل 1:22:21 گزشتہ تین سو سال سے سامراجی مفادات کے لیے اسلام کے نام کا استعمال 1:24:39 طبقاتی سیاسی نظام میں قانون کا مخصوص مفادات کے لیے شاطرانہ استعمال 1:29:37 اسلام کے سیاسی غلبے اور نظام میں معروضی حالات کے تقاضوں کی رعایت اور تاریخی حقائق پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/