عدل، امن اور آزادی کی قرآنی تعلیمات اور خطے میں سامراج کا سیاہ دورِ غلامیخطاب حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری برموقع سیمینار بتاریخ: یکم؍ شعبان المعظم 1445ھ / 12؍ فروری 2024ء بمقام: زینت مارکی، قاضی والا روڈ، چشتیاں، ضلع بہاولنگر ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 2:01 آٹھ ارب انسانیت سیاسی و معاشی حقوق سے محروم 4:01 سیاسی حکومتیں اور نظام قائم کرنے کے مقاصد 7:22 سیاسی حکومت کے رہنما اُصول اور واضح قرآنی ہدایات 10:00 قیامِ عدل، رسولوں کی بعثت کا ہدف (سورت الحدید کی آیت کا مفہوم) 12:30 سورت النحل میں مثالی سوسائٹی (سیاسی امن اور معاشی اطمینان) کا نقشہ 14:41 عدل، امن اور معاشی خوش حالی، ریاست و قوم کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں 22:17 مکہ میں ابوجہل کا ظالمانہ نظام اور نبی ﷺ کی آزادی کے لیے جدوجہد 32:09 عقیدے کی بنیاد پر دو قومی نظریے کا تصور، قرآن و سنت کی صریح تعلیمات کے خلاف 40:42 اسلام کی روشن تاریخ اور عادلانہ سیاسی و معاشی نظام 42:49 برعظیم پاک و ہند کی معاشی خوش حالی اور انگریز سامراج کی لوٹ کھسوٹ 48:12 ہندوستان کو غلام بنانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی، قومی غداروں اور بیوروکریسی نظام کا مکروہ کردار 51:53 سائفرز کی اساس پر ہندوستان کی دو سو سالہ غلامی کی حکومت 56:44 انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت جعلی الیکشنز کا آغاز اور مجلس احرارِ اسلام سے نا روا سلوک 1:04:05 متحدہ پنجاب کی تقسیم، مسلم لیگ اور گورنر پنجاب کی مکروہ سازش کامیاب 1:06:50 ملک پر مسلط پارلیمنٹ اور الیکشن کا ماڈل، غلامی کی یادگار 1:08:44 برطانیہ کا امریکا سے ہندوستان کی بندر بانٹ کاخفیہ ایگریمنٹ 1:15:13 برطانیہ کا تقسیمِ ہند کا ظالمانہ فیصلہ، امریکا سامراج کا دباؤ اور رُوس کے خلاف اڈے کا مطالبہ 1:18:57 76 سالہ غلامی کی سیاہ تاریخ، ظالمانہ نظام کا تحفظ اور امریکا کے من پسند حکمرانوں کا انتخاب 1:33:27 آج ظالمانہ نظام کا تسلط الم نشرح، درست سیاسی و معاشی شعور سے مقابلہ کرنے ضرورت پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/