جواب دہی کے قرآنی تصور کی روشنی میں میڈیا اور فتویٰ بازی کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کا جائزہ خُطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبتاریخ: 18؍ ذو قعدہ 1446ھ / 16؍ مئی 2025ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپس خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۚ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُـوْلًا۔ (17 - بنی اسرائیل:36) ترجمہ (قرآن عزیز): ”اور جس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ، بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہوگی۔“ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 ✔️ انسان بہ طورِ ذمہ دار اور مکلف ✔️ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کے لیے عبادات اور توبہ کی ضرورت ✔️ دنیا اور آخرت میں باز پرس کا نظام ✔️ انسان کے پاس اللہ کی امانت اور اس کی جواب دہی ✔️ سماجی بگاڑ کی بڑی وجہ؛ جھوٹ کی انڈسٹری ✔️ غیر مصدقہ خبریں اور اُن کو پھیلانے کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ✔️ فتوی بازی اور مفتی ماجن کے متعلق شرعی حکم ✔️ رائے سازی میں علمائے شریعت کا محققانہ کردار ✔️ علما کا ذمہ دارانہ سماجی کردار ✔️ کسی کے ایمان پر حملے کرنے کی ممانعت (قرآن و سنت کی روشنی میں) بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا