Khutabat e Khilafat

خُطباتِ خلافت بسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ خُطبہ 90: فصل ہفتم (مقصدِ دوم) خلافتِ خلفائے راشدینؓ کی عقلی بنیادیں (10) خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 13؍ محرم الحرام 1447ھ / 9؍ جولائی 2025ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 ✔️ پہلی دلیل؛’’وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ‘‘ کا خلاصہ ✔️ دوسری دلیل؛ایک خودساختہ قصے کی بنیاد پر ’’اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا‘‘ الآیة سے خلافتِ علی - رَضِيَ اللّٰهُ عَنْه - پر غلط استدلال ✔️ شاہ صاحب رحمه اللّٰه کا آیت کے سیاق و سباق سےصحیح مفہوم کی نشان دہی کرنا ✔️ مذکورہ آیت کے حقیقی مصداق حضرت ابوبکر - رَضِيَ اللّٰهُ عَنْه - کی خلافت میں مرتدین سے جہاد کرنے والے صحابہ کرام - رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهم - ہیں ✔️ امام باقر رحمهُ اللّٰه کا اس آیت سے حضرت علی - رَضِيَ اللّٰهُ عَنْه - کی (ولایت) کی تخصیص کی نفی کرنا ✔️ شاہ صاحبؒ کا حضرت علی - رَضِيَ اللّٰهُ عَنْه - کے غُلُو میں گروہیت پیدا کرنے والوں پر اظہارِ افسوس ✔️ صاحبِ ”اساس‘‘ کا آیت میں’’ولی‘‘ سے صرف حضرت علی - رَضِيَ اللّٰهُ عَنْه - کو خاص کرنا‘ غلط استدلال ✔️ تواتُر کا معنیٰ و مفہوم اور معترض کے دعوائے تواتُر کا بُطلان ✔️ تعریض اور تخصیص میں بڑا فرق, لیکن معترض اس فرق سے بالکل نابلد ✔️ اس آیت سے مخصوص تعریض کی ممانعتِ کی تین وجوہات ✔️ حضرت علی - رَضِيَ اللّٰهُ عَنْه - کی غیر معمولی دلیری و بہادری اور دین کی نُصرت کا تذکرہ، مگر اس کا خلافت سے تعلق نہیں ✔️ معترض کا ’’ولی‘‘ سے امام و خلیفہ مراد لینا‘ صریح غلطی ✔️ قرآن میں لفظِ ولایت کا معنیٰ امامت و خلافت نہیں، بلکہ نُصرت و مدد ✔️ آیت کے سیاق وسباق سے واضح طور پر نُصرت و مدد مُراد ہے ✔️ معترض نے خواہشِ نفس سے آیت کا مفہوم بدل دیا ہے ✔️ صاحبِ ”اساس“ کا حضرت ابوبکر کے خلیفہ کی نفی پر حضرت ابراہیم علیه السّلام سے متعلق آیت کے معنیٰ میں ردّ و بدل اور غلط طرزِ استدلال اور اس کا تجزیہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا