بسلسلۂ افکار امام شاہ ولی اللہ دہلویؒخُطبہ 39: فصل پنجم: خلافتِ خاصہ (فتنۂ شہادتِ عثمانؓ) کے بعد وقوع پذیر ہونے والے فِتَن کا بیان (حصہ سوم) احادیث و آثار کی روشنی میں تیس بنیادی اُمور خطاب: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 21؍ رمضان المبارک 1445ھ / یکم؍ اپریل 2024ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ خطبے کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 ▪️ اہم بات: یہ شرور و فتن کا مربوط سلسلہ ہے، فتنے بہ یک وقت شہادتِ عثمانؓ کے بعد ظہور پذیر نہیں ہوئے، بلکہ قیامت تک آنے والے فتنوں کی حضوؐر نے نشان دہی ہے ▪️ خلافتِ خاصہ سے پہلے اور بعد کے حالات میں تغیر و تبدل سے متعلق امور کا بیان ▪️ 19) نکاحِ متعہ کی آڑ میں زنا کاری، نبیذ کے نام پر شراب اور گانے بجانے کو حلال قرار دینا ▪️ 20) مسلمانوں میں ایک دوسرے سے امن کا اُٹھ جانا اور معاشرے میں بد اَمنی کی فضاء پیدا ہونا ▪️ 21) ریاست پر ظالم لوگ قابض، جو حکمران بننے کے مستحق نہیں: نا اہل قیادت کی بالادستی ▪️ 22) اَرکانِ اسلام کے قیام میں فتورِ عظیم (بڑی خرابی) واقع ہونا: شہادتِ عثمانؓ کے بعد کسی خلیفہ کا بذاتِ خود حج کا انتظام نہ کرنا ▪️ 23) عبادات میں تشدد و تعمق اور دینی رُخصتوں سے راضی نہ ہونا ▪️ جادۂ قویمہ اور کوتاہ نظر فقہائے متأخرین ▪️ 24) نبی اکرم ﷺ کا دو فتنے ذکر فرمانا ▪️ حکومت و سلطنت کی دو بنیادیں ▪️ ان دو فتنوں سے متعلق حضرت سعید بن مسیبؒ کی رائے اور شاہ صاحبؒ کا مؤقف ▪️ 25) نبی اکرم ﷺ کے بنائے ہوئے نظام کا شہادتِ عثمانؓ تک باقی رہنا اور پھر فتنے پیدا ہونے کا عمل شروع ▪️ 26) نبی اکرم ﷺ نے فتنوں کی تعداد متعین کردی: چھ باتیں ▪️ 27) بیت المقدس (شام کی مرکزیت) کا آباد ہونا اور مدینہ منورہ کی ویرانی کا سبب، نیز جنگیں اور قسطنطنیہ کی فتح ▪️ خروجِ دجال اور قیامت کی علامات سے متعلق نصوص کا درست مفہوم ▪️ 28) حضرت ابو عبیدہؓ و حضرت معاذؓ کی حدیث ▪️ 29) ابن ماجہؒ کی روایت ▪️ 30) حضرت مرداس اسلمیؓ کی روایت پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute