زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0081
سوال
نکاح میں عام طور پر مہر دو طرح کا مقرر کیا جاتا ہے، معجل: جو فوری ادا کیا جاتا ہے اور مؤجل (غیر معجل)، جس کا ادا کرنا فوری طور پر ضروری نہیں ہوتا، قابل دریافت امر یہ ہے کہ مہر غیر معجل کی ادائیگی کا مطالبہ عورت کی طرف سے کس وقت درست ہوگا، کیا رُخصتی کے بعد عورت ہر وقت مطالبے کا حق رکھتی ہے یا یہ مطالبہ طلاق و وفات تک مؤخر ہو سکے گا؟
جواب
مہر غیر معجل کی دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ ہے کہ ادائیگی کا کوئی وقت مقرر کر دیا جائے، مثلاً ایک سال بعد یا دو سال بعد وغیرہ، جس کا مطالبہ اس مدت کے بعد کیا جا سکے گا، اور دوسری صورت یہ ہے کہ مہر غیر معجل (مؤجل) کا وقت بالکل متعین نہ کیا جائے، اس کا مطالبہ صرف طلاق یا موت کے وقت ہی ہو سکتا ہے اور ہمارے عرف میں مؤجل (غیرمعجل) غیر متعین مدت کے معنی میں لیا جاتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
اگست 25, 2025 @ 06:15شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں