مزارعہ کے شفعہ مزارعگی کے دعوی کی شرعی حثیت

زمره
شفع و صلح
فتوی نمبر
0001
سوال

کیا فرماتے ہیں علماء اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک خاتون سے بارہ ایکڑ زرعی اراضی خرید کی، اس وقت یہ رقبہ ایک تیسرے آدمی نے ٹھیکہ پر لیا ہوا تھا۔ چنانچہ اس ٹھیکیدار نے اپنے آپ کو مزارع ظاہر کر تے ہوئے اس وقت کے مروجہ قانون کے مطابق شفعہ مزارعگی دائر کر دیا۔ قابلِ دریافت امر یہ ہے کہ مزارع  نے جو شفعہ کا دعویٰ دائر کیا ہے، کیا شرعاً جائز ہے؟ اور شفعہ مزارعگی شریعت میں ثابت ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شرعاً مزارع کو شفعہ کا حق حاصل نہیں ہے، کیوں کہ شفعہ کے لیے ضروری ہے کہ شفعہ کرنے والے کی ملکیت، شفعہ کی ہوئی زمین کے ساتھ متصل ہو، جب کہ ٹھیکیدار صرف مزارع ہے۔ اور اس کی مملوکہ زمین، فروخت کردہ زمین کے ساتھ متصل نہیں ہے، اس لیے وہ شفعہ کا حق نہیں رکھتا۔ شفعہ مزارعگی کی شرعاً کو ئی حیثیت نہیں ہے۔

قال فی الدر المختار: وسببہا (الشفعۃ) اتصال ملک الشفیع بالمشتری (بفتح الرائ) بشرکۃ او جوار وقال العلامۃ الشامی: قال الطوری: وسببہا دفع الضرر الذی ینشأ من سوء المجاورۃ علی الدوام (ص ۱۳۷،ج۵) 

فقط واللہ اعلم

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
دسمبر 13, 2021 @ 11:40صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں