زمره
فتوی نمبر
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ دوپارٹیوں کے درمیان لڑائی ہوئی اور ایک پارٹی ان کو چھڑانے کے لیے گئی، ان میں سے ایک پارٹی نے چھڑانے والی پارٹی پر زیادتی کی اور کئی لوگوں کو زخمی کر دیا ۔ اس کے بعد چھڑانے والی پارٹی نے زیادتی کرنے والی پارٹی کے خلاف تھانہ میں مقدمہ درج کروا دیا۔ بعد میں علاقہ کے معزز آدمیوں نے متفقہ طور پر مصالحانہ فیصلہ کیا کہ ملزم پارٹی کو زیادتی کے بدلے چھ ہزار روپیہ جرمانہ دینا چاہیے۔ ملزم پارٹی نے اس فیصلے کے مطابق چھ ہزار روپیہ ادا کردیا اور مدعی پارٹی نے تھانے میں جاکر مقدمہ خارج کروا دیا۔ کیا مدعی پارٹی کے لیے یہ چھ ہزار روپے لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئلہ میں جب تک زخم درست نہ ہو جائیں یا درست ہو جائیں اور ان کے نشان باقی ہوں، تو اس صورت میں زیادتی کرنے والے سے بطور جرمانہ کچھ رقم وصول کرنے پر مصالحت کی جا سکتی ہے۔
قال فی الہندیہ: جرح رجلاً عمداً فصالحہ منہ لایخلوا ا ما ان برأ اومات منہا فان صالحہ من الجراحۃ اومن الضربۃ اومن الشجۃ اومن القطع ۔۔۔۔۔۔۔جاز الصلح ان بریٔ بحیث بقی لہ اثر وان بریٔ بحیث لم یبق لہ اثر بطل الصلح۔
(ص۲۶۱،ج۳ عالمگیری)