زمره
سوال
میں پاناما کا رہنے والا ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک مسلم کمیٹی ہے، وہ عید کے موقع پر ان یہودیوں کو مٹھائی اور عید کارڈ بھیجتے ہیں جو اسرائیل کے کھلے عام حامی و مددگار ہیں۔ اس کمیٹی کا کہنا یہ ہے کہ ہم انکو گفٹ دیں گے تو ہمارا تعلق ان سے اچھا رہے گا۔ کیا شریعت ہمیں ان چیزوں کی اجازت دیتی ہیں؟، جبکہ مظلوموں پر دل دہلانے والا ظلم ہو رہا ہے۔ مسلم کمیٹی نہ تو کوئی پوسٹ اپنے انسٹاگرام پر چڑھانے کے لیے تیار ہے، نہ مسجدوں میں مظلوموں کے لیے دعا اور بیان کرنے کی اجازت دیتی ہیں، اور نہ ہی اس کمیٹی کے لوگ ملک میں احتجاج درج کرانے پر راضی ہے۔
جواب
صورت مسئولہ میں شرعی حکم یہ ہے کہ جو لوگ ظلم میں تعاون اور ظالموں کی مدد کرتے ہیں، وہ خود بھی ظالم ہیں اور ان کے برعکس جو مظلوموں کی مدد اور ان کی داد رسی کے لیے کوشاں ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے شایان شان اجر ملے گا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(الممتحنة: 9)
ترجمہ: اللہ تو منع کرتا ہے تم کو ان سے جو لڑے تم سے دین پر اور نکالا تم کو تمہارے گھروں سے اور شریک ہوئے تمہارے نکالنے میں کہ ان سے کرو دوستی اور جو کوئی ان سے دوستی کرے، سو وہ لوگ وہی ہیں گناہ گار۔
نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے
وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ (ہود: 113)
ترجمہ: "اور تم ظالموں کی طرف جھکاؤ نہ کرو ورنہ تمہیں آگ پکڑ لے گی اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہ ہوگا، پھر تمہاری مدد بھی نہیں کی جائے گی۔"
حدیث مبارکہ میں آیا ہے
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ قَالَ: تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ.(صحیح بخاری: 2444)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، "اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم"۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (ظلم روکنے کے لیے) "اس کا ہاتھ پکڑ لو" ( یہی اس کی مدد ہے)۔
لہذا مذکورہ نام نہاد مسلم افراد سے جو استفتاء کے مطابق ظالموں کا کھلم کھلا ساتھ دے رہے ہیں، ان کو مدد باہم پہنچا رہے ہیں اور مذکورہ قرآنی احکامات کی دیدہ دلیری سے مخالفت کر رہے ہیں، ان سے تعاون کرنا ظلم میں تعاون کرنا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (المائدة: 2)
ترجمہ: "اور آپس میں مدد کرو نیک کام پر اور پرہیزگاری پر اور مدد نہ کرو گناہ پر اور ظلم پر اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے"۔
اس لئے ان کے غلط طرز عمل پر نکیر ضروری ہے نیز پر امن طور پر قانون کے دائرے میں رہ کر ان کے طرزِ عمل کے خلاف دینی شعور بیدار کرنے کی منظم حکمت عملی اختیار کی جائے ۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب