سرمایہ داری نظام کی خرابی؛ محنت کش طبقوں کا معاشی استحصال

زمره
معیشت و معاش
فتوی نمبر
0087
سوال

اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے کہ ایک کمپنی میں ملازمین دس سے بارہ سال تک کام کرتے ہیں، لیکن وہ صرف گزارے لائق تنخواہ پاتے ہیں اور کچھ بچا نہیں پاتے۔ دوسری طرف کمپنی کا مالک موجودہ کمپنی کی آمدن سے ہر سال یا دو سال بعد نئی کمپنی بناتا ہے۔ کیا یہ عمل جائز ہے؟ جب کہ اصل سرمایہ تو مالک نے ہی لگایا ہوتا ہے؟

جواب

ملازمت در حقیقت عقد اجارہ ہے۔ سرمایہ کار کام اور سرمایہ فراہم کرتا ہے، جبکہ مزدور محنت اور وقت بطور اجرت دیتا ہے۔ اگر معاہدے میں اجرت غیر مناسب یا غیر واضح ہے، تو ملازم کا حق ضائع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح امام شاہ ولی اللہ رح کے نزدیک کسی مجبور مزدور کی رضا مندی کا اعتبار نہیں، اس لئے آزاد بنیادوں پر فریقین کے درمیان معاہدہ ہونا ضروری ہے، تاکہ کسی فریق پر کسی قسم کا ظلم نہ ہو ۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
’’مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ‘‘​
"مالدار کا ٹال مٹول (ملازم پر) ظلم ہے"،
(صحیح البخاری: 2400)
اسی طرح یہ بھی ارشاد نبویﷺ ہے:
"أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ"
"مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ھونے سے پہلے ادا کرو"،(سنن ابن ماجہ: 2443)
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملازم کو بروقت اور مکمل اجرت دینا ضروری ہے، چاہے اس کے لئے کوئی علیحدہ معاہدہ نہ بھی ہو۔
اسلام کے معاشی تعلیمات کے مطابق، ملازمین کا جائز حق صرف وہ تنخواہ نہیں جو انہیں دی جاتی ہے، بلکہ معروف کے اصول پر ایسی اجرت اور حق المحنۃ ہونی چاہیے جس سے ان کی بنیادی ضروریات احسن طریقے سے پوری ہو سکیں۔
لہذٰا صورت مسئولہ میں ملازم دس سے بارہ سال تک کام کرتا رہے، صرف گزارے لائق تنخواہ پائے اور اس میں کچھ بھی پس انداز نہ کر سکے تو یہ صورت حال قرآن، حدیث اور فقہ کے رو سے ملازم کا استحصال (exploitation) تصور کیا جائے گا جو کہ معاشی اعتبار سے سراسر نا انصافی اور اسلام کے معاشی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مقام
پشاور
تاریخ اور وقت
جون 03, 2025 @ 02:15شام