کفیل کا کفالت کے بدلہ میں رقم لینا

سوال

کفیل کا کفالت کے بدلہ میں رقم لینا جائز ہے ؟
خلیجی ممالک میں وہاں کے شہری اپنی مختلف قسم کی ضرورتوں کے لئے اپنے ملک کی حکومت کی پالیسی کے مطابق ویزا لے کر دوسرے ممالک سے افراد منگواتے ہیں، مثلا ڈرائیور، باورچی وغیرہ، یا کاروبار اور کمپنی میں کام کرنے کی ضرورت کے لئے مختلف مہارتیں رکھنے والے افراد منگواتا ہے۔ بعد میں اس منگوائے ہوئے اجیر سے کہتا ہے کہ کہیں جہاں چاہے کام کرو اور مجھے کفالت کے عوض ماہانہ اتنی رقم ادا کرتے رہو!
یا کسی بھی ذریعہ سے ملک میں آئے ہوئے فرد کو ویزا دلوا کر اس کا کفیل بن گیا اور رقم لینے کا معاہدہ کر لیا۔
کیا کفیل کا اس شخص سے یہ معاوضہ لینا شرعاً جائز ہے؟

 

جواب

کفیل کے لئے کفالت کے عوض رقم لینا جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ کفالت شرعی احکام کی رُو سے عقدِ تبرّع ہے، یعنی ایک ایسا معاملہ جس میں کفیل ہونے کی ذمہ داری لینے والا فرد کسی معاوضہ کا حقدار نہیں ہوتا بلکہ یہ ذمہ داری لینا اس کی طرف سے ایک نیکی ہے۔
عن أبي أمامة، عن النّبيّ ﷺ: ”الزّعيم غارم“.  (مسند أحمد 36/ 633 ط الرسالة)
جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کفیل اپنے اوپر تاوان لینے والا ہے“۔
البناية شرح الهداية 7/ 383 میں ہے:
لأنّ ‌عقد ‌الكفالة تبرّع، ”اس لئے که عقدِ کفالت تبرّع ہے“۔
المبسوط للسرخسي 11/ 196میں ہے:
‌انّ ‌الكفالة ‌تبرّع في الابتداء، ”کفالت ابتداء کے اعتبار سے تبرّع ہے“۔
بدائع الصّنائع في ترتيب الشّرائع 6/ 73 میں ہے: 
و الدّليل على أنّھا تبرّع اختصاص جوازها بأهل التّبرّع، حتّى لا تجوز من الصّبيّ و المكاتب و العبد المأذون.
”اور کفالت کے تبرّع ہونے کی دلیل یہ ہے کہ یہ ذمہ داری صرف وہی لے سکتا ہے جو تبرّع کا اہل ہو، چنانچہ بچہ، مکاتب اور تجارت و لین دین کا مجاز غلام کفیل نہیں بن سکتا“۔
یہی بات المبسوط للسّرخسی 11/ 196میں بھی ہے:
”إنّ ‌الكفالة ‌تبرّع بدليل أنّه لا يصحّ ممّن ليس من أهل التّبرّع، كالمأذون و المكاتب“‌إن ‌الكفالة ‌تبرع. 
خود عرب امارات کے قانون کے مطابق بھی کفیل کے لئے معاوضہ لینا جائز نہیں ہے، چنانچه عرب امارات کی حکومت کی طرف سے جاری کردہ شہریت کے معاملات کے متعلق قانون ”(1098) من قانون المعاملات المدنية في دولة الإمارات“ میں صراحت ہے کہ:
لا يجوز للكفيل أن يأخذ عوضا عن كفالته، فإن أخذ عوضا عنھا وجب عليه ردّه لصاحبه، و تسقط عنه الكفالة إن أخذه من الدّائن أو من المدين أو من أجنبي بعلم من الدّائن، فإن أخذه بدون علم منه لزمته الكفالة مع ردّ العوض.
”کفیل کے لئے اپنی کفالت کا معاوضہ لینا جائز نہیں ہے، اگر اس نے معاوضہ لیا تو لینے والے پر لازم ہے کہ جس سے لیا ہے اسے واپس کرے۔ اگر قرض خواہ یا مقروض یا کسی اجنبی سے قرض خواہ کے علم میں لا کر لیا تو اس کی کفالت ختم ہو جائے گی ، اور اگر اس کے علم میں لائے بغیر لیا تو کفالت تو قائم رہے گی مگر معاوضہ جو لیا ہے وہ واپس کرنا ہو گا۔“
خلاصہ یہ ہے کہ کفیل اپنی کفالت کے عوض کوئی رقم نہیں لے سکتا، ہاں اگر کفیل نے اپنے زیرِ کفالت فرد کے لئے کوئی مزید کام کیا ہے تو محض اس کی اجرت لے سکتا ہے، یا اگر اس کی طرف سے کوئی تاوان ادا کیا ہے تو صرف وہی مقدار اس سے وصول کر سکتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں!
اس لئے کہ کفالت کا معاملہ ابتداء تو محض تبرّع ہے مگر انتہاء کے اعتبار سے اس میں کسی محنت کا یا تاوان کا عوض آ سکتا ہے۔
  و اللہ أعلم

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
جنوری 08, 2024 @ 04:32شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں