میراث کی تقسیم

زمره
وراثت
فتوی نمبر
0004
سوال

السَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

مفتیان صاحبان ایک مسٸلہ درپیش ہیں۔ میراث کے بارے میں اگر وضاحت کی جاۓ تو بڑی مہربانی ہوگی۔ مسٸلہ مندرجہ ذیل ہیں ۔ " ایک شخص ( امانی ملک ) وفات پا چکا ہے اور اسے ورثا میں سے ایک بیوی ( بادشاہی نور ) تین بیٹے ( سلطانی روم ۔ جہان روم اور مکرم خان ) اور دو بیٹیاں ( رواسیہ بی بی اور نبوت بی بی ) رہ چکے ہیں تو اس کے درمیان میراث کس طرح تقسیم ہوگا۔

نوٹ: یہ کہ مرحوم کے والدین پہلے وفات ہو چکے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک بیٹی ( اویلو بی بی ) مرحوم امانی ملک کے وفات سے پہلے وفات پا چکی تھی۔

جواب

الجواب وبالله التوفیق
وراثت کی تقسیم سے قبل متوفی کی زیر ملکیت مال (منقولہ وغیر منقولہ) میں سے تجہیز و تدفین کے اخراجات کے بعد اگر متوفی کے ذمہ قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا اور اگر اس نے اپنے ورثاء کے علاوہ کسی کے لیے کوئی مالی وصیت کی تھی تو اس کو پورا کیا جائے گا اور یہ وصیت اس کے کل ملکیت کے ایک تہائی (1/3) مال کے اندر ہی پوری کی جائے گی ، اس سے زیادہ نہیں۔ اس کے بعد بقیہ ترکہ صرف ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو متوفی کی وفات کے وقت بقیدِ حیات ہوں، لہذا صورت مسئولہ میں متوفیٰ امانی ملک کے ترکہ کی تقسیم میں اس کی فوت شدہ بیٹی اویلو بی بی کو شامل نہیں کیا جائے گا اور اس کے ترکہ کے کل 64 حصے کئے جائیں گے۔
ان میں سے بیوہ بادشاہی نور کو 8 حصے ،
بیٹا سلطانی روم کو 14 حصے،
بیٹا جہاں روم کو 14حصے،
اور بیٹا مکرم خان 14 حصے ملیں گے۔ 
اور بیٹی رواسیہ کو 7 حصے اور نبوت بی بی کو بھی 7 حصے از روۓ شریعت ملیں گے۔ 
 فقط واللہ اعلم

مقام
خوازہ خیلہ سوات
تاریخ اور وقت
نومبر 13, 2023 @ 08:23صبح