دو بھائیوں میں لڑائی جھگڑا کروا کر پھوٹ ڈلوا کر دوریاں پیدا کروانے والے کی سزا اور اسلامی تعلیمات

سوال

ہمارے پیارے مذہب اسلام میں ان لوگوں ، رشتے داروں کے بارے میں کیا حکم اور سزا بتانی گئی ہے جو دو سگے بھائیوں کے درمیان پھوٹ ڈلوا کر لڑوا دیتے اور دوریاں پیدا کروا دیتے ہیں

جواب

الجواب حامداً ومصلیا ومسلما: انسانوں  کے درمیان اور بلخصوص رشتہ داروں کے درمیان اختلاف و نفرت پیدا کرنا ایک انتہائی برا فعل اور گناہ کبیرہ ہے قرآن حکیم اور سنتِ نبوی میں اس کی شدید ممانعت اور مذمت بیان کی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ اللّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُوْلَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ.
ترجمہ:اور جو لوگ ﷲ کا عہد اس کے مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان تمام (رشتوں اور حقوق) کو قطع کر دیتے ہیں جن کے جوڑے رکھنے کا ﷲ نے حکم فرمایا ہے اور زمین میں فساد انگیزی کرتے ہیں انہی لوگوں کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔ (الرَّعْد، 13: 25)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
1- عن أبي بکرة قال: قال رسول الله ﷺ ما من ذنب أحریٰ أن یعجل الله لصاحبه العقوبة في الدنیا مع ما یدخرله في الآخرة من البغي وقطیعة الرحم“. (رواہ أبوداود وترمذي )
ترجمہ:حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی گناہ اس بات کے زیادہ لائق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ارتکاب کرنے والے کو دنیا میں بھی اس کی سزا دے اور (مرتکب کو) آخرت میں بھی دینے کے لیے (اس سزا) کو اٹھا رکھے، ہاں دوگناہ اس بات کے لائق ہیں: ایک تو  زنا کرنا اور دوسرا ناطہ (تعلق) توڑنا۔
2- لا تنزل الرحمة علی قوم فیہ قاطع رحم ۔
ترجمہ: جس قوم میں قاطع رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو اس قوم پر الله کی رحمت کا نزول نہیں ہوتا۔ (الادب المفرد 63)۔
3-عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهَا فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ مِنَّا
ترجمہ:صحابی رسول أبوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی خادم کو اس کے گھر والوں کے خلاف اکسایاوہ ہم میں سے نہیں ہے، اور جس شخص نے عورت کو اس کے شوہر کے خلاف اکسایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (مسند أحمد:٣٩٧٢)
قرآن حکیم کی مندرجہ بالا آیت اور احادیث مبارکہ سے قطع رحمی کرنے اور کروانے کو ایک ایسا عمل بتایا گیا ہے  جو دنیا اور آخرت میں ذلت، رسوائی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ، غضب اور لعنت کا سبب بنتا ہے لہذا اس شیطانی عمل سے بچنا ہر مسلمان کے لیے لازمی و ضروری  ہے لیکن اس کی ساتھ ساتھ ہمیں اتنا فہم و فراست ،شعور اور ادراک حاصل کرنا چاہیے کہ کوئی شریر آدمی  بدگمانیاں پیدا کرکے ہمارے درمیان لڑائی اور پھوٹ پیدا نہ کرسکے کیونکہ مؤمن کی شان حدیث نبوی میں یہی بتائی گئی کہ مؤمن نہ  دھوکا دیتا ہے اور نہ دھوکا کھاتا ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب

مقام
اسلام آباد
تاریخ اور وقت
دسمبر 16, 2023 @ 06:11شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں