زمره
فتوی نمبر
سوال
ہم نے اپنی بہن کے لیے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں قسطوں پر ایک پلاٹ بچت کو محفوظ کرنے کی نیت سے خریدا تھا۔ سوسائٹی میں پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے ہمیں یہ گمان ہو گیا تھا کہ ادا کی گئی رقم ڈوب چکی ہے اور اس کی وصولی کا کوئی امکان نہیں۔ اسی بنا پر گزشتہ دو سالوں کی زکوٰۃ اس رقم/پلاٹ پر ادا نہیں کی گئی۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ یہ سوسائٹی کسی دوسری سوسائٹی میں ضم (merge) ہو گئی ہے۔ اس انضمام کے نتیجے میں ہماری رقم کا کچھ حصہ نقصان میں گیا ہے، جبکہ باقی رقم دوسری سوسائٹی کے ایک پلاٹ میں منتقل ہو گئی ہے۔
دریافت طلب امور:
(1) کیا اس پلاٹ پر گزشتہ دو سالوں کی زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟
(2) اگر واجب ہے تو کس چیز پر اور کتنی رقم پر؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگر وہ پلاٹ بہن کو دینے کی نیت سے خریدا گیا تو اس پر زکوۃ واجب نہیں۔ البتہ اگر وہ پلاٹ بچت کو محفوظ کرنے کے لیے اس نیت سے خریدا تھا کہ اس کو مستقبل میں بیچے گا تو وہ تجارتی پلاٹ کہلائے گا لہذا :
(1) اس پلاٹ پر گزشتہ دو سالوں کی زکوۃ واجب ہوگی۔
(2) زکوۃ ہر سال پلاٹ کی قیمت فروخت پر واجب ہوگی، جس کا اندازہ غالب گمان سے یا کسی پراپرٹی ڈیلر کی مشاورت سے طے کیا جائے مثلا اس پلاٹ کی قیمت پہلے سال دس لاکھ (100,0000) روپے تھی تو اس پر پچیس ہزار (25,000) زکوۃ واجب ہوگی اور اگر دوسرے سال اس کی قیمت بارہ لاکھ (12,00,000) تھی تو اس پر تیس ہزار (30,000) ہزار زکوۃ واجب ہوگی۔
تاہم اگر قسطیں طویل مدتی ہوں اور ایک سال میں صرف مخصوص اقساط ادا کرنی ہوں تو پھر ایک سال کی اقساط زکوۃ کے حساب سے منھا ہوں گی۔
