زمره
فتوی نمبر
سوال
مدعیہ اقصیٰ شبیر اور مدعی علیہ عاطف ممتاز کے درمیان 02-01-2025 کو شرعی طریقے سے نکاح ہوا۔ شادی کے بعد مدعیہ اپنے سسرال منتقل ہوئی اور ازدواجی ذمہ داریاں ادا کرنے لگی۔ تاہم، شادی کے محض دو ہفتے بعد ہی مدعی علیہ نے مدعیہ کے زیورات (جو اس کی ذاتی ملکیت تھے) بیچ دیے اور رقم اپنے پاس رکھ لی۔ جب مدعیہ کے والدین نے زیورات کے بارے میں پوچھا تو مدعی علیہ نے صاف انکار کر دیا کہ وہ زیورات واپس نہیں کرے گا اور نہ ہی بیوی کو طلاق دے گا۔ اس کے علاوہ، مدعی علیہ نے مدعیہ کا نان و نفقہ (اخراجات) دینا بھی بند کر دیا۔
مدعیہ کا موقف اور حلف نامہ
مدعیہ نے عدالت میں پیش کیے گئے اپنے حلف نامے اور بیان میں موقف اختیار کیا کہ:
(1) مدعی علیہ نے اس کے ساتھ بدسلوکی کی اور اس کے زیورات بیچ دیے۔
(2) مدعی علیہ نہ صرف نان نفقہ دینے سے انکار کر رہا ہے بلکہ طلاق دینے پر بھی راضی نہیں ہے۔
(3) مدعی علیہ کے اس رویے کی وجہ سے مدعیہ کو اس سے شدید نفرت ہو گئی ہے اور وہ کسی بھی صورت اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ اس نے عدالت میں واضح کیا کہ وہ مدعی علیہ کے ساتھ رہنے کے بجائے مرنا پسند کرے گی۔
(4) مدعیہ نے عدالت سے استدعا کی کہ اسے خلع کے ذریعے نکاح سے آزاد کیا جائے۔
عدالتی کارروائی اور بیرونِ حاضری فیصلہ
عدالت نے مدعا علیہ کو باقاعدہ سمن (نوٹس) جاری کیے، ڈاک کے ذریعے نوٹس بھیجے اور اخبار ”نیا دور ملتان“ میں اشتہار بھی شائع کروایا۔ لیکن مدعی علیہ یا اس کی طرف سے کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہ ہوا۔
چونکہ مدعی علیہ عدالت میں پیش نہیں ہوا، عدالت نے اس کے خلاف بیرونِ حاضری (Ex-Parte) کارروائی شروع کی۔ مدعیہ خود بطور گواہ (PW-1) پیش ہوئی اور اپنے بیان کے ساتھ حلفیہ بیان جمع کروایا۔ عدالت نے دونوں فریقین کے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ مدعی علیہ کا کوئی جواب سامنے نہیں آیا اور مدعیہ کے بیانات غیر متضاد ہیں۔
فیصلہ
عدالت نے 28-07-2025 کو اپنا فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں درج ذیل نکات پر زور دیا گیا:
(1) جب مدعیہ کسی بھی صورت مدعی علیہ کے ساتھ رہنے پر راضی نہیں اور اسے اس سے شدید نفرت ہے، تو انہیں زبردستی ایک ساتھ رکھنا مزید نفرت اور ظلم کا سبب بنے گا۔
(2) لہٰذا، عدالت نے مدعیہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے نکاح کو خلع کی بنیاد پر تنسیخ (Dissolved) کر دیا۔
(3) عدالت نے حکم دیا کہ اس فیصلے کی کاپی مدعی علیہ اور متعلقہ یونین کونسل کو بھیجی جائے تاکہ طلاق کے مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکے۔
مقدمہ کے حقائق
ان حقائق کی روشنی میں درج ذیل صورت مسئلہ میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں :
(1) ایک خاتون (مدعیہ) کا نکاح ایک شخص (مدعا علیہ) سے 02-01-2025 کو ہوا۔
(2) شادی کے دو ہفتے بعد شوہر نے بیوی کے ذاتی زیورات زبردستی بیچ دیے اور رقم خود رکھ لی۔
(3) شوہر نے بیوی کا نان و نفقہ دینا بند کر دیا۔
(4) جب بیوی نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا تو شوہر نے زیورات واپس کرنے اور طلاق دینے سے صاف انکار کر دیا۔
(5) بیوی نے شوہر کے اس رویے کی وجہ سے شدید نفرت کا اظہار کیا اور عدالت میں خلع کی درخواست دائر کی۔
(6) شوہر کو عدالت نے بارہا نوٹس بھیجے، اخبار میں اشتہار دیا، لیکن وہ پیش نہ ہوا۔
(7) عدالت نے شوہر کے خلاف بیرونِ حاضری (Ex-Parte) فیصلہ سناتے ہوئے نکاح کو خلع کی بنیاد پر تنسیخ کر دیا۔
سوالات
(1) مذکورہ بالا حالات (بیوی کی رضامندی کے بغیر زیورات بیچنا، نان نفقہ نہ دینا، طلاق سے انکار، اور باوجود نوٹس اور اخباری اشتہار کے عدالت میں پیش نہ ہونا) کی روشنی میں کیا یہ شوہر شرعی اصطلاح میں ”متعنت“ نہیں ہے؟ ”متعنت“ کی شرعی تعریف اور اس کی علامات کیا ہیں؟
(2) اگر شوہر ”متعنت“ ہو اور بیوی کے حقوق ادا نہ کرے، تو کیا قاضی/حاکمِ وقت (عدالت) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شوہر کی رضامندی کے بغیر نکاح کو فسخ کردے؟
(3) کیا یہ تنسیخ طلاقِ بائن کے حکم میں ہوگی؟
(4) اس عدالتی تنسیخ کے بعد، کیا مدعیہ (خاتون) عدت گزار کر دوبارہ نکاح کر سکتی ہے؟ اور کیا اسے شوہر سے مزید کوئی شرعی رکاوٹ باقی رہے گی؟
(5) کیا اس مخصوص کیس میں عدالت کا فیصلہ اسلامی شریعت کے عین مطابق ہے، یا اس میں کوئی شرعی قباحت ہے؟ اگر کوئی قباحت ہے تو بیان کردہ صورت حال میں اس کا ازالہ کیسے ممکن ہے؟
براہِ کرم، قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں مستند جواب سے نوازیں۔
نوٹ : بعد ازاں مدعیہ نے مدعیٰ علیہ شوہر سے اپنا مکمل سامان (جہیز و پارچات) روبرو گواہان مورخہ 16/05/2026 کو واپس وصول کرلیا ہے۔
جواب
بر بنائے صحتِ صورتِ مسئولہ، اگر شوہر کی طرف منسوب الزامات حقیقت پر مبنی ہوں اور مکمل تحقیق کے بعد عورت کا دعوی سچ ثابت ہوجائے تو عدالتی فیصلے کی رو سے ایسا شوہر متعنت (باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق؛ نان و نفقہ وغیرہ ادا نہ کرنے والا) قرار پائے گا۔ چنانچہ تمام حالات و قرائن کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اگر:
(1) شوہر نان و نفقہ بحال کرنے اور طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو
(2) عدالتی نوٹس کے باجود دانستہ طور پر عدالت میں حاضر نہ ہو
(3) بیوی کے لیے نان و نفقہ کے بغیر عزت آبرو کے ساتھ گزر بسر ناممکن ہو اور نہ ہی اس کے پاس کسبِ معاش کا کوئی ذریعہ موجود ہو
(4) یا نان و نفقہ کا بندوبست تو ہو لیکن شوہر سے مسلسل علیحدگی کی صورت میں گناہ اور فتنے میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو
الغرض رشتہ برقرار رکھنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو عدالت نکاح فسخ کرسکتی ہے اور یہ عدالتی فسخ طلاقِ بائن کے حکم میں ہوگا، جس کے بعد مدعیہ خاتون عدت گزار کر کسی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کرنے کی مجاز ہوگی۔
واللہ اعلم بالصواب
