امام کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ کیا کرے؟

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0569
سوال

اگر نماز کی جماعت کے دوران امام صاحب کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ خود اور باقی مقتدیوں کی نماز کیسے پوری کروائیں؟ اس پر تفصیلی رہنمائی درکار ہے۔

جواب

نماز کی جماعت میں اگر امام صاحب کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ اپنے مقتدیوں میں سے سمجھ دار، علم رکھنے والے شخص کو اپنا نائب بنا کر وضوکرلیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ نماز کی جس حالت میں امام صاحب کا وضو ٹوٹا ہے، وہ اسی حالت سے پیچھے ہٹ کر اپنے نائب کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جگہ کھڑا کردیں۔ وہ (نائب) اسی جگہ سے بقیہ نماز مکمل کروائے۔ اس کی درجِ ذیل چند صورتیں ہوسکتی ہیں:

(۱) اگر نماز میں قرأت کرتے ہوئے امام صاحب کا وضو ٹوٹا ہے تو دیکھا جائے گا کہ اگر امام صاحب ضروری قرأت (جو ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں کی تعداد میں ہو) پڑھ چکے تھے تو نائب رکوع کروا دے۔ اور اگر ضروری قرأت بھی مکمل نہیں ہوئی تھی تو پھر پہلے نائب قرأت مکمل کروائے، پھر رکوع کروائے۔

(۲) اگر امام صاحب کا وضو رکوع کی حالت میں ٹوٹا ہے تو نائب دوبارہ رکوع کروا کر پھر بقیہ نماز مکمل کروائے گا۔

(۳) اگر سجدے کی حالت میں امام صاحب کا وضو ٹوٹا ہے تو نائب کو سمجھانے کے لیے امام صاحب اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر پیچھے ہٹیں، تاکہ نائب‘ امام صاحب کی بات کو سمجھ جائے۔ پھر نائب مُصلّے پر آکر اسی سجدے سے بقیہ نماز مکمل کروائے۔ بہتر ہے کہ نائب ضروری وقفے سے زائد ہوجانے کے شبہ کی وَجہ سے سجدۂ سہو کرلے۔

جب کہ اصل امام صاحب وضو کرکے بعد میں آکر اپنی سابقہ نماز کو آگے بڑھاتے ہوئے بقیہ نماز پوری کرکے نائب کے ساتھ شامل ہوسکیں تو ہوجائیں، ورنہ اکیلے اپنی نماز مکمل کرلیں۔ امام صاحب نئے سِرے سے بھی اپنی پوری نماز پڑھ سکتے ہیں۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
اکتوبر 17, 2026 @ 07:44شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں