زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0568
سوال
مرحوم نور العالم کی وراثت کے حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے۔ ورثا میں مرحوم کی بیوہ، ماں، تین بیٹے اور دو پوتیاں ہے۔ وراثت کی تقسیم کے حوالے سے فتویٰ مطلوب ہے۔
جواب
مرحوم نور العالم کے ترکہ سے حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی (یعنی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات، مرحوم کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی، اور جائز وصیت کی صورت میں اسے ایک تہائی ترکہ تک نافذ کرنے) کے بعد، باقی ماندہ ترکہ 72 حصوں میں تقسیم ہو گا، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 9 حصے (%12.5)، مرحوم کی والدہ کو 12 حصے (%16.66)، مرحوم کے 3 بیٹوں میں سے ہر ایک کو 17 حصے (%23.61) از روئے شرع ملیں گے، جبکہ مرحوم کی دونوں پوتیاں بیٹوں کی موجودگی میں محروم ہوں گی۔
مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
اکتوبر 16, 2026 @ 08:23شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
