زمره
فتوی نمبر
سوال
یونیورسٹی کی جامع مسجد میں طلبا و طالبات کی کلاسز منعقد ہوتی ہیں۔ سیمسٹر سسٹم میں کلاسز کی حاضری بہت اہم ہوتی ہے۔ طالبات کے لیے مسجد میں نماز کے لیے الگ جگہ بھی متعین ہے۔ کیا طالبات ماہواری کے ایام میں کلاس لینے کے لیے مسجد میں آ سکتی ہیں؟
جواب
خواتین کے لیے ایامِ ماہواری میں مسجدِ شرعی کی حدود کے اندر ٹھہرنا شرعاً ممنوع ہے۔ البتہ مسجد سے متصل ایسی جگہ، جو مسجد کی شرعی حدود میں شامل نہ ہو، وہاں تعلیم و تعلم کی غرض سے ٹھہرنا جائز ہے۔
واضح رہے کہ سرکاری طور پر الاٹ شدہ زمین پر تعمیر کی گئی ایسی عمارت، جسے کلاس روم کے دوہرے استعمال کے پیشِ نظر بنایا گیا ہو، عموماً مصلّٰی شمار ہوتی ہے، نہ کہ مسجدِ شرعی؛ تاہم، اس کا حتمی حکم عمارت کی تعمیر، وقف کی نوعیت اور متعلقہ منظوری کی تفصیلات پر منحصر ہے۔
اس سلسلے میں ابہام دور کرنے کے لیے مناسب صورت یہ ہے کہ عمارت کے اندر نماز کے لیے مخصوص حصے کی واضح حد بندی کی جائے اور اسے الگ دروازے اور تحریری اعلان کے ذریعے مسجد کے طور پر مختص کیا جائے، جبکہ باقی حصہ کلاس روم کے طور پر برقرار رکھا جائے۔ اس اقدام کے لیے وقف اور متعلقہ قانونی و شرعی تقاضوں کی تکمیل بھی ضروری ہے۔
متبادل طور پر طالبات کی کلاسوں کے لیے مسجد سے متصل ایسا الگ ہال مختص کیا جا سکتا ہے جو مسجد کی شرعی حدود میں شامل نہ ہو۔ ایامِ ماہواری میں طالبات کو اس ہال یا کسی دوسرے الگ کمرے میں شرکت، یا آن لائن اور ریکارڈ شدہ لیکچرز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔
انتظامیہ ان ایام کے لیے حاضری میں رعایت یا متبادل انتظام بھی کر سکتی ہے؛ تاہم، حاضری کی پابندی کو شرعی ضرورت قرار دے کر مسجدِ شرعی میں قیام کی ممانعت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
