شطرنج کھیلنا کیسا ہے؟

زمره
حظر و اباحت
فتوی نمبر
0576
سوال

شطرنج کھیلنا کیسا ہے؟

جواب

جسمانی و ذہنی کھیل کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ اگر اُس کھیل سے دینی و دنیوی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہو، اور اس کا مقصد جسمانی صحت یا ذہنی تشحیذ (ذہن کو تیز کرنا) ہو، تو ایسا کھیل جائز ہے۔
شطرنج کا حکم بھی اسی ضابطے کے تحت ہے۔ اگر اسے محض ذہنی ورزش اور تفریح کے لیے کھیلا جائے اور درج ذیل امور کا پورا خیال رکھا جائے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں:
(1) جوا یا کسی قسم کی شرط (ہار جیت پر مال کا لین دین) نہ ہو۔
(2) نماز، دیگر شرعی فرائض اور ضروری ذمہ داریوں میں غفلت نہ ہو۔
(3) کھیل میں حد سے زیادہ مشغولیت اور وقت کا ضیاع نہ ہو۔
(4) آپس میں لڑائی جھگڑے، گالم گلوچ اور بدکلامی سے مکمل اجتناب ہو۔
لیکن اگر ان میں سے کوئی بھی خرابی پائی جائے تو شطرنج و دیگر کھیلنا ناجائز ہوگا۔

واللہ اعلم بالصواب​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
اکتوبر 13, 2026 @ 02:55شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں