مفقود الخبر (لاپتہ شخص) کی میراث کا حکم

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0662
سوال

ایک عورت مسمی سکینہ بی بی دختر شرف دین بہ عمر 6 سال کے بعد عرصہ 40 سال سے لاپتہ ہے۔ کافی تلاش کے باوجود اس کی گمشدگی کا کوئی علم نہیں ہوسکا۔ اس عرصے کے دوران جب اس کے والد شرف دین کا وصال ہوا تو اس کا ترکہ تمام ورثا، دو بیواؤں رحمت بی بی والدہ سکینہ بی بی، سرداراں بی بی، دو بیٹوں مقبول احمد، مقصوداحمد، دو بیٹیوں رابعہ بی بی اور سکینہ بی بی (گمشدہ) میں تقسیم ہوا۔ اب سکینہ بی بی کے وراثت اس کے ورثا تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

لاپتہ سکینہ بی بی کے والد شرف دین کے ترکے سے ملنے والا حصہ امانتاً رکھا رہے، یہاں تک کہ قاضی (جج) اس کی موت کا حکم کردے۔ قاضی سکینہ بی بی کے گم ہوجانے اور نہ ملنے کی تحقیق ہوجانے کے بعد چار سال مکمل ہونے پر مدت موت کا حکم لگا سکتا ہے۔ تو جن وارثوں کا حصہ کم کرکے لاپتہ سکینہ بی بی کے لیے رکھا گیا، وہ ان ورثا کوبقدر حصہ مل جائے گا، جو اس کے والد شرف دین کی وفات کے وقت زندہ تھے۔ البتہ بعد ازیں اگر سکینہ بی بی بھی زندہ واپس آجائے تو پھر ورثا کو یہ حصہ واپس لوٹانا ہوگا۔ اسی طرح اگر اس کی موت کی یقینی تاریخ کا علم اور تحقیق ہوجائے تو اُس وقت زندہ ورثا کا اعتبار ہوگا۔

مقام
ہارون آباد
تاریخ اور وقت
اکتوبر 05, 2026 @ 09:11شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں