متفرق مسائل (طلاق، رجوع، عدت)

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0663
سوال

میری بہن کا نکاح محمد ابراہیم سے ہوا تھا۔ شادی کے بعد کے حالات درج ذیل ہیں:
1. پہلا واقعہ: شوہر نے 4 فروری 2022 کو پہلی طلاق دی تھی، لیکن عدت کے اندر ہی شرعی طریقے سے رجوع کر لیا تھا اور دونوں دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے لگے تھے۔
2. حالیہ واقعہ: اب 2 اکتوبر 2026 کو شوہر نے اپنے پورے ہوش و حواس میں صریح الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا: "میں محمد ابراہیم اپنے پورے ہوش و حواس میں ماہم فاطمہ تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔ یہ ان کی طرف سے دی جانے والی دوسری طلاق ہے۔
3. موجودہ صورتحال: شوہر کا موقف ہے کہ عدت کے دوران اس کے پاس رجوع کا یکطرفہ حق ہے اور وہ بیوی کی مرضی کے بغیر بھی رجوع کر سکتا ہے۔ دوسری طرف، میری بہن اس شوہر کو شدید ناپسند کرتی ہے، اس کے ساتھ بالکل نہیں رہنا چاہتی اور مستقل علیحدگی چاہتی ہے۔
شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

(1) شوہر کے مذکورہ بالا الفاظ سے کونسی طلاق واقع ہوئی ہے اور یہ مجموعی طور پر کونسی طلاق شمار ہوگی؟

(2) اگر بیوی شدید مخالفت کرے اور کسی صورت راضی نہ ہو، تو کیا ایسی صورت میں بھی عدت کے اندر شوہر کا یک طرفہ رجوع شرعاً معتبر اور نافذ ہو جائے گا؟

(3) اگر شوہر رجوع کر لیتا ہے جبکہ بیوی اس کے ساتھ رہنے پر بالکل تیار نہ ہو، تو عورت کے پاس اس ناپسندیدہ رشتے سے مستقل نجات حاصل کرنے کے لیے شریعت میں کیا راستے (مثلاً خلع یا تنسیخِ نکاح) موجود ہیں؟

(4) اگر عدت کے دوران شوہر رجوع نہ کرے، تو عدت ختم ہونے کے بعد دونوں کے شرعی رشتے کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا بعد میں دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نیا نکاح ضروری ہوگا؟

(5) اس طلاق کے بعد عورت کے لیے عدت گزارنا شرعاً کہاں لازم ہے؟

(6) عدت کے دوران ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے شوہر سے پردہ کرنے یا دوری اختیار کرنے کے کیا احکام ہیں؟

جواب

​(1) اگر پہلی طلاق رجعی تھی اور عدت کے دوران ہی شوہر نے رجوع کرلیا تھا تو شوہر کے مذکورہ بالا صریح الفاظ سے بیوی پر ایک اور طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر دو طلاقیں شمار ہوں گی۔

(2) طلاق رجعی سے رجوع میں بیوی کی رضامندی شرط نہیں، لہذا شوہر کا رجوع شرعاً متعبر مانا جائے گا۔ البتہ رجوع کے سلسلے قرآن حکیم میں صراحت کے ساتھ یہ بات موجود ہے کہ شوہر کا رجوع سے مقصود بیوی کو ستانا اور تنگ کرنا نہ ہو، بلکہ جانبین میں سابقہ کوتاہیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرناا ور رشتے کو برقرار رکھنا ہو۔ چنانچہ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے:
”وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۪-وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْاۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ-وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا“ (2۔ البقرہ: 231)
(اور جب عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں حسن سلوک سے روک لو یا انہیں دستور کے مطابق چھوڑ دو اور انہیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکو تاکہ تم سختی کرو اور جو ایسا کرے گا تو وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا اور اللہ کی آیتوں کا تمسخر نہ اڑاؤ)

(3) پہلی بات تو یہ کہ ہر ممکنہ حد تک رشتے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے دونوں خاندانوں کے معزز افراد کو بیچ میں لاکر باہمی افہام و تفہیم سے معاملہ حل کرنے کی سعی کی جائے۔ فریقین کے درمیان اختلاف کی جو بھی نوعیت ہے، اس پر مل بیٹھ کچھ شرائط طے کرلی جائیں، مثلاً شوہر کی جانب سے ہونے والی زیادتیوں پر اسے آئندہ ایسے عمل سے باز رہنے کا پابند کیا جائے اور اگر بیوی کی جانب سے بھی کوئی کوتاہی ہو تو اسے بھی اصلاح کی تاکید کی جائے۔
اگر ان تمام کوششوں کے باوجود بات نہ بنے تو شوہر کو طلاق یا خلع پر آمادہ کیا جائے۔ اگر شوہر طلاق یا خلع پر آمادہ نہ ہو تو عورت عدالت سے تنسیخِ نکاح کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔ عدالت محض عورت کے دعوے پر نہیں بلکہ ٹھوس شرعی وجوہات کی بنیاد پر علیحدگی کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

(4) طلاق رجعی کی صورت میں عدت کے دوران رجوع نہ کرنے کی صورت میں طلاق رجعی بائن میں تبدیل ہوجاتی ہے، جس سے نکاح ختم ہوجاتا ہے، بعد ازاں دونوں کا بطور میاں بیوی اکھٹے رہنا جائز نہ ہوگا، یہاں تک کہ مہرِ جدید کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاحِ جدید نہ کرلیں۔

(5) طلاق کے بعد عورت عدت شوہر کے ہاں گزارنا لازم ہے۔ اگر شوہر کے ہاں عدت گزارنے میں ایذا رسانی کا خدشہ ہو تو وہ اپنے والدین کے گھر عدت گزار سکتی ہے۔

(6) طلاق رجعی کی عدت میں شوہر سے پردہ لازم نہیں بلکہ شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کیا جائے تاکہ رشتہ ٹوٹنے سے بچ جائے اور شوہر رجوع پر آمادہ ہو۔

مقام
واہ کینٹ
تاریخ اور وقت
اکتوبر 05, 2026 @ 06:42صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں