زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0560
سوال
ایک عورت نامی فرحت کلثوم فوت ہوئیں۔ ان کے ورثاء میں فوت شدہ والد اور شوہر (جوکہ مرحومہ کی وفات کے بعد فوت ہوئے)، والدہ، 2 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں۔ مرحومہ کا ترکہ مذکورہ بالا ورثاء کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگا؟
جواب
مرحومہ کے ترکہ سے حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی (یعنی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات، مرحومہ کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی، اور جائز وصیت کی صورت میں اسے ایک تہائی ترکہ تک نافذ کرنے) کے بعد، باقی ماندہ ترکہ 96 حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے مرحومہ کے شوہر کو 24 حصے (%25) ، والدین میں سے ہر ایک کو 16 حصے (%16.66)، بیٹوں میں سے ہر ایک کو 10 حصے (%10.42)، اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 5 حصے (%5.21) از روئے شرع ملیں گے۔
(نوٹ: والد اور شوہر کا حصہ ان کے اپنے شرعی ورثا کے درمیان ان کے حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔)
واللہ اعلم بالصواب
مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
اکتوبر 03, 2026 @ 01:11شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
