قرض حسنہ سے کیا مراد ہے؟

زمره
بیوعات و معاملات
فتوی نمبر
0665
سوال

​قرض حسنہ سے کیا مراد ہے؟​

جواب

​قرضِ حسنہ ایک جامع اسلامی اصطلاح ہے، جس کے دو بنیادی معانی ہیں:
​(الف) اللہ تعالی کی راہ میں خلوصِ نیت سے مال خرچ کرنا، جیسے صدقہ، انفاق فی سبیل اللہ، جہاد، یا دینی و فلاحی کاموں میں مال لگانا۔ اسے مجازاً ”اللہ کو قرض دینا“ کہا گیا ہے، کیونکہ اللہ غنی ہے اور اس کی طرف سے کئی گنا اجر کا وعدہ ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کی ترغیب آئی ہے، مثلاً:
​”مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً“ (البقرة: 245)
​(ب) کسی ضرورت مند کو محض رضائے الٰہی کے لیے بلا سود اور بلا کسی اضافی فائدے کی شرط کے قرض دینا، جس کی اصل رقم مقررہ یا معروف وقت پر واپس لی جائے۔
​دونوں قسم کے قرضِ حسنہ کے لیے احکام و آداب:
​1۔ نیت خالص اللہ کی رضا کی ہو۔
​2۔ مال حلال و پاکیزہ ہو۔
​3۔ احسان نہ جتایا جائے اور اذیت نہ دی جائے۔
​فقہی قرضِ حسنہ کی شرائط:
​1۔ اصل رقم سے زائد کوئی نفع یا فائدہ مشروط نہ ہو، ورنہ وہ سود بن جاتا ہے۔
​2۔ مقروض تنگ دست ہو تو اسے مہلت دی جائے۔ (البقرة: 280)
​3۔ بار بار تقاضا کر کے پریشان نہ کیا جائے۔
​4۔ مقروض پر لازم ہے کہ استطاعت ہوتے ہی بروقت ادائیگی کرے۔
​5۔ قرض لکھ لینا مستحب ہے (واجب نہیں)؛ حکمت یہ ہے کہ بھول چوک، نزاع اور ورثاء کے مسائل سے حفاظت ہو۔ عملی طور پر رقم (بالخصوص بڑی رقم)، مدت اور فریقین کے نام لکھے جائیں اور دو معتبر گواہ بنا لیے جائیں۔
​6۔ علاوہ ازیں گروی (رہن) کے بدلے دیا گیا قرض بھی قرضِ حسنہ کہلا سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں سود یا کوئی مشروط نفع نہ ہو۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔​​

مقام
جیکب آباد
تاریخ اور وقت
ستمبر 30, 2026 @ 08:43صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں