زمره
فتوی نمبر
سوال
انسان پر کالا جادو اور جنات کے حملوں کو آج کی میڈیکل سائنس نہیں مانتی بلکہ اس کو انسانی ڈپریشن قرار دیتی ہے۔ ہمارے ہسپتال میں کافی اس طرح کے کیسز آتے ہیں کہ مریض پر کالے جادو یا جنات کا اثر ہوتا ہے اور وہ عاملوں سے آخرکار تنگ آکر ہسپتال کا رخ کرتے ہیں تو سائکاٹرسٹ ڈاکٹرز ان کی ڈپریشن کا علاج کرتے ہیں تو وہ صحتیاب ہوتے ہیں۔
تو میرا سوال ہے کہ کالے جادو اور جنات کی حقیقت کیا ہے اور کالے جادو اور جنات کے حملوں کی شریعت میں کیا حیثیت ہے جبکہ میڈیکل سائنسز اس طرح کی باتوں کی تردید کرتی ہے؟
جواب
آج کل معاشی تنگدستی، بے روزگاری، گھریلو پریشانیوں اور دیگر عوامل کی وجہ سے نفسیاتی مسائل و امراض بہت عام ہو گئے ہیں۔ اس لیے ایسے مریضوں کو چاہیے کہ وہ متعلقہ مستند ماہرین (سائیکاٹرسٹ) سے رجوع کریں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ نام نہاد عاملوں کا ایک پیشہ ور طبقہ پریشان حال اور ذہنی طور پر کمزور لوگوں کو جادو یا جنات کے وہم میں مبتلا کر کے ان کا مالی اور نفسیاتی استحصال کرتا ہے۔ نتیجتاً مریض کی حالت بہتر ہونے کے بجائے اکثر مزید بگڑ جاتی ہے۔ عاملوں کے عملیات اکثر وہمی ہوتے ہیں، اور اس وہم کا شکار عموماً وہی لوگ ہوتے ہیں جو معاشی یا گھریلو مسائل کا شکار اور ذہنی طور پر کمزور ہوں۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ سائیکاٹرسٹ کے علاج سے مریض صحتیاب ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جادو اور جنات کی کوئی حقیقت نہیں؟ تو واضح رہے کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتیں۔ میڈیکل سائنس صرف انہی اسباب کو جانچ سکتی ہے جو حواس اور آلات کے ذریعے قابلِ پیمائش ہوں، جیسے دماغ میں کیمیائی تبدیلیاں یا ہارمونز کا عدم توازن۔ روحانی اسباب (جادو، جنات کا اثر) اس کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ اس لیے سائنس کا انہیں نہ ماننا دراصل “عدمِ ثبوت” ہے، “ثبوتِ عدم” نہیں۔
بسا اوقات ایسی علامات جنہیں لوگ جادو یا جنات کا اثر سمجھتے ہیں، حقیقت میں خالص نفسیاتی امراض (ڈپریشن، وسواس، ہسٹیریا وغیرہ) ہی ہوتے ہیں، جن کا علاج طبی ادویات اور نفسیاتی معالجہ سے ممکن ہے۔ البتہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر ایسا کیس محض نفسیاتی ہوتا ہے اور جادو و جنات کی کوئی حقیقت نہیں۔
جادو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور بطور “سبب” کے، اس کا اثر مختلف طبائع پر مختلف انداز میں ظاہر ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اسی طرح جنات ایک ناری مخلوق ہیں جو مختلف اشکال اختیار کر سکتی ہیں اور ان کی کوئی متعین و مرئی صورت نہیں۔ انسانوں کی طرح یہ مخلوق بھی احکامِ شریعت کی مکلف ہے، اسی لیے ان میں سے بعض مؤمن و نیک اور بعض کافر و نافرمان ہیں۔
ہمارے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ ان کے وجود پر ایمان رکھیں، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اس سے زیادہ تفصیلات میں جانے کی نہ ہمیں ضرورت ہے اور نہ ہم اس کے مکلف ہیں، اور نہ ہی ان کا بےجا خوف اپنے اوپر مسلط کرنا چاہیے۔
عملی طور پر مناسب یہی ہے کہ پہلے مستند معالج سے رجوع کیا جائے۔ اگر طبی معالجہ کے باوجود علامات برقرار رہیں اور روحانی سبب کا قوی اندیشہ ہو، تبھی کسی مستند عالمِ ربانی سے رہنمائی لی جائے، اور اس سے پہلے کسی غیر مستند عامل، پیروں یا مشہور “روحانی علاج” کے مراکز کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔
