بیوہ، بیٹی اور بیٹے کے درمیان تقسیمِ ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0552
سوال

ایک شخص نامی عبد الکریم فوت ہوا۔ اس کے ورثا میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔ ان کے درمیان وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب

مرحوم کے ترکہ سے حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی (یعنی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات، مرحومہ کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی، اور جائز وصیت کی صورت میں اسے ایک تہائی ترکہ تک نافذ کرنے) کے بعد، باقی ماندہ ترکہ 24 حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 3 حصے (٪12.5)، بیٹی کو 7 حصے (٪29.16) اور بیٹے کو 14 حصے (٪58.33) از روئے شرع ملیں گے۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
ستمبر 27, 2026 @ 07:38شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں