بیوہ، بیٹی، بھائی اور بہن کے درمیان تقسیمِ ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0551
سوال

ایک شخص فوت ہوا۔ اس کے ورثاء میں بیوہ، بیٹی اور ایک بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔ ان کے درمیان وراثت کی تقسیم کے حوالے سے شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔

جواب

مرحوم کے ترکہ سے حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی (یعنی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات، مرحوم کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی، اور جائز وصیت کی صورت میں اسے ایک تہائی ترکہ تک نافذ کرنے) کے بعد، باقی ماندہ ترکہ 8 حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 1 حصہ (٪12.5)، بیٹی کو 4 حصے (٪50)، حقیقی بھائی کو 2 حصے (٪25) اور حقیقی بہن کو 1 حصہ (٪12.5) از روئے شرع ملے گا۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
ستمبر 27, 2026 @ 07:32شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں