دھوکے سے کسی ملک کی قومیت حاصل کرنا

زمره
حظر و اباحت
فتوی نمبر
0557
سوال

آج کل دوسرے ملکوں میں خصوصاً عرب اور یورپین ممالک میں روزگار کے لیے جانے کا عام رُجحان ہے۔ کیا یہ جائزہے کہ کسی ملک میں بغیر ویزے کے سرحد عبور کرلی جائے بعد میں کاغذات مکمل کرلیے جائیں؟ یعنی کیا دھوکے سے کسی ملک کی قومیت حاصل کرنا جائز ہے۔

جواب

​اقوامِ متحدہ کے ذریعے ملکوں کی حدود کے متعین ہوجانے کے بعد ان ملکوں کی عوام پر وِیزے کی پابندی لازم ہوجاتی ہے۔ بغیر کاغذات کے حدود کا کراس کرنا دوسرے ملک کی حدود میں مداخلت شمار کی جاتی ہے۔ لہٰذا محض روز گار کی خاطر دوسرے ملکوں میں خطرات کے پیش نظر سفر مناسب نہیں۔ اس سے ملک اور ملت دونوں کی بدنامی ہے۔ اسلام کے اندر دھوکا دہی حرام ہے۔ دھوکے سے کسی ملک کی قومیت حاصل کرنا درست نہیں۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
ستمبر 26, 2026 @ 12:15شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں