نماز میں ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ“ پڑھتے وقت کیا نیت ہونی چاہیے؟

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0550
سوال

تشہد میں جب ہم ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ“ پڑھتے ہیں تو اس میں بظاہر حضور اقدس ﷺ کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ کیا اس وقت اللہ تعالٰی کے بعد نبی اکرم ﷺ مخاطب ہو کر نمازی کا سلام سنتے ہیں؟
ہمیں کیا سوچ کر یہ الفاظ پڑھنے چاہئیں؟​

جواب

​تشہد میں ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ“ پڑھتے وقت یہ دھیان رہے کہ فرشتوں کے توسط سے حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں سلام پہنچایا جاتا ہے تو اس عقیدے سے خطاب کے صیغے (ایھا النبی) سے درود و سلام پیش کرنا درست ہے۔
کذا فی کفایت المفتی، ج: 1، ص: 287، ط: ادارہ الفاروق، کراچی

مقام
کراچی
تاریخ اور وقت
ستمبر 25, 2026 @ 06:33صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں