”اللّٰہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں“ کہنا کیسا ہے؟

زمره
حظر و اباحت
فتوی نمبر
0549
سوال

”اللّٰہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں“ جملا کہنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

”اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں“ جملا مفہوم کے اعتبار سے درست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالٰی محروم الوسائل اور مظلوم لوگوں کی ضرور مدد فرماتے ہیں، خواہ اس میں کچھ مصلحت آمیز تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کسی بھی حال میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے.

اللہ تبارک و تعالی ظالموں کو مہلت (ڈھیل) دیتا ہے تاکہ وہ اپنے مجرمانہ حرکات سے باز آجائیں، چنانچہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے:

 وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُ (1)
 (اور ہرگز مت خیال کر کہ اللہ بے خبر ہے اس کاموں سے جو کرتے ہیں بے انصاف، ان کو تو ڈھیل دے رکھی ہے اس دن کے لیے کہ پتھرا جائیں گی آنکھیں)

 اگر ظالموں کو سزا ملنے میں کچھ دیر ہو تو یہ مت سمجھو کہ خدا ان کی حرکات سے بے خبر ہے، یاد رکھو ان کا کوئی چھوٹا بڑا کام خدا سے پوشیدہ نہیں۔ البتہ اس کی عادت نہیں ہے کہ مجرم کو فوراً پکڑ کر تباہ کر دے۔ وہ بڑے بڑے ظالم کو مہلت دیتا ہے کہ یا اپنے جرائم سے باز آجائے یا ارتکابِ جرائم میں اس حد تک پہنچ جائے کہ قانونی حیثیت سے اس کے مستحقِ سزا ہونے میں کسی طرح کا خفا باقی نہ رہے۔ (2)

مذکورہ بالا آیت جہاں ظالموں کے لیے سخت وعید ہے، وہاں ہر مظلوم کی داد رسی اور تسلی کا سامان بھی ہے، لہذا حالات چاہے کیسے بھی ہوں، غمزدہ ہوکر مایوسی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر حال میں اپنے رب کی رحمت اور اس کے انصاف پر کامل یقین رکھنا چاہیے۔
​
واللہ اعلم بالصواب


(1) 13۔ ابراہیم: 42
(2) تفسیر عثمانی، (لاہور، پاک کمپنی)، ص: 345

مقام
جیکب آباد
تاریخ اور وقت
ستمبر 23, 2026 @ 06:02صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں