فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کا حکم

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0546
سوال

فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا جو مروّج سلسلہ ہے، اس کا حدیث ِمبارکہ میں کوئی ثبوت ہے یا نہیں؟ اگر ثبوت ہے تو حوالہ کتاب کے ساتھ عنایت فرمائیں۔

جواب

احادیث ِمبارکہ و تعامل اہل سنت و الجماعت سے فرضوں کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا ثابت ہے۔ اس پر مفتی اعظم (پاک و ہند) حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کا رسالہ ”النفائس المرغوبہ فی الدعاء بعد الصلوٰۃ المکتوبہ“ لائق مطالعہ ہے۔ یہ رسالہ کفایت المفتی میں بھی درج ہے۔ نیز اس کے علاوہ امیرالمؤمنین حضرت عبداللہ بن مبارک نے اپنی تالیف معروف کتاب الزہد و الرقائق میں درج ذیل صریح حدیث نقل فرمائی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں عبدالعزیز رواد نے خبر دی، انھوں نے کہا: مجھے علقمہ بن مرثد اور اسماعیل بن اُمیہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور اُن کو ملا کرکے یہ دعا مانگتے: اے میرے پروردگار! میری وہ خطائیں بخش دے، جو پہلے اور بعد میں ہوچکیں۔ اور جو خفیہ کیں، جو اعلانیہ کیں۔ اور جو زیادتی سرزد ہوئی۔ اور تمام وہ خطائیں جو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ تو ہی آگے بڑھانے والا ہے۔ تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تیرے لیے بادشاہی ہے اور تیرے لیے ہی سب تعریف ہے۔‘‘ (کتاب الزہد، حدیث نمبر: 1154، ص: 331، جز تاسع، طبع: مکتبہ علمیہ، بیروت)

لہٰذا یہ مسنون عمل ہے۔ اس کے مسنون ہونے میں شک یا تردّد مناسب نہیں ہے۔

مقام
چشتیاں
تاریخ اور وقت
ستمبر 22, 2026 @ 11:42صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں