قبروں پر چراغ جلانا

زمره
احکامِ میت
فتوی نمبر
0548
سوال

قبرستان میں جو نئی قبر بنی ہو، اس پر چراغ جلانا کیسا ہے؟

جواب

قبروں پر چراغ جلانا جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں اس کی صریح ممانعت آئی ہے۔ (1)

عن ابن عباس قال: لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم زائرات القبور والمتخذین علیها المساجد والسرج. (رواه أبوداؤد و الترمذي والنسائي. (2)
(حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں کو مسجد بنا لینے (یعنی قبروں پر سجدہ کرنے والوں) اور قبروں پر چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔)

واللہ أعلم بالصواب


(1) کفایت المفتی، (کراچی، ادارہ الفاروق)، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز: قبر اور دفن کا بیان، 548/5
(2) مشکاۃ المصابیح، (کراچی، مکتبہ البشریٰ)، کتاب الصلاۃ، باب المساجد ومواضع الصلاة، الفصل الثاني، 131/1، رقم الحديث: 740)


مقام
مانسہرہ
تاریخ اور وقت
ستمبر 22, 2026 @ 09:29صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں