زمره
فتوی نمبر
سوال
حکومت نے طلباء کے لیے ایک سکیم نکالی ہے، جس کےتحت طالب علموں کو قسطوں پر موٹر سائیکل دی جارہی ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ موٹر سائیکل کی اصل قیمت ایک لاکھ نوے ہزار ہے، لیکن حکومت طالب علم سے ماہانہ تین ہزار روپے کی قسط میں کل ملا کر صرف ایک لاکھ روپے لے گی۔ باقی نوے ہزار حکومت کی طرف سے رعایت ہے۔ ساتھ میں حکومت نے یہ شرط لگائی ہے کہ اگر قسط وقت پر ادا نہ ہوئی تو جرمانہ ہوگا۔
کیا ایسی صورت میں اس سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موٹر سائیکل لینا جائز ہے؟
جواب
اصل موٹر سائیکل کا معاہدہ (قیمت، رعایت، قسط) بذاتِ خود جائز ہے۔ لیکن تاخیر کے جرمانے کی رقم چونکہ غیر متعین ہے اور بینک کی مرضی پر ہے، اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے جہالت کی وجہ سے درست نہیں۔ اگر متعین بھی ہو تو بھی مسئلہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ رقم کس مد میں جاتی ہے۔ تاخیر پر جرمانہ لگانا بطور "ڈراوا" (تاکہ لوگ بروقت ادائیگی کریں) بعض علماء کے نزدیک جائز قرار دیا گیا ہے، بشرطیکہ یہ جرمانے کی رقم قرض دہندہ (یعنی حکومت/بینک) اپنے نفع میں شامل نہ کرے بلکہ صدقہ/فلاحی مقاصد میں خرچ کرے۔
اگر جرمانے کی رقم بینک یا حکومت اپنی آمدنی میں شامل کر لے، تو یہ سود (ربا النسیئہ) کے زمرے میں آ جاتا ہے، کیونکہ یہ محض تاخیر کی وجہ سے اضافی رقم کا لینا ہے۔
اگر ممکن ہو تو خود بھی نیت اور کوشش یہی رکھیں کہ قسط بروقت ادا کریں تاکہ جرمانے کی نوبت ہی نہ آئے، اس طرح اس اشکال سے عملاً بچا جا سکتا ہے۔
