زمره
فتوی نمبر
سوال
مروجہ روایتی (Conventional) بینکنگ سسٹم میں کیشیئر یا لون آفیسر (Loan Officer) کی ملازمت اختیار کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ نیز اس نوکری کے نتیجے میں حاصل ہونے والی آمدنی/ تنخواہ حلال شمار ہوگی یا نہیں؟
جواب
اسلام نے ان تمام امور سے منع فرمایا ہے جن کا تعلق کسی نہ کسی واسطے سے سود (ربا) سے ہو۔ اس کی صراحت حدیث مبارکہ میں ہے :
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔“
چونکہ کیشیئر یا لون آفیسر کی ملازمت کا بنیادی کام یا بڑا حصہ سودی معاملات کی انجام دہی، مالی معاہدات کی تحریر یا ان میں معاونت پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے ایسی ملازمت اختیار کرنے سے گریز کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص پہلے سے یہ ملازمت کر رہا ہو، تو اسے چاہیے کہ فوراً حلال اور پاکیزہ متبادل روزگار کی تلاش شروع کرے اور متبادل ملتے ہی اس نوکری کو چھوڑ دے۔
