پیسے دے کر بچہ گود لینے کا حکم

زمره
حظر و اباحت
فتوی نمبر
0544
سوال

ایک غریب خاندان سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ ان کے مالی حالات بہت کمزور ہیں اور ان کے ہاں جلد بچے کی ولادت متوقع ہے۔ وہ اپنی مرضی سے اپنا ہونے والا بچہ کسی دوسرے خاندان کو دینا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے درج ذیل امور دریافت طلب ہیں کہ:
(1) بچہ دینے کے بدلے میں وہ کچھ رقم بھی طلب کر رہے ہیں۔ کیا بچہ لینے والے کے لیے رقم دینا جائز ہوگا؟
(2) اگر بچہ کسی دوسرے خاندان کو دے دیا جائے تو جس عورت کی زیر کفالت یہ بچہ ہوگا، وہ اس بچے کے لیے محرم ہوگی یا غیر محرم؟​

جواب

​(1) صورتِ مسئولہ میں ایک آزاد انسان بذات خود خرید و فروخت کا محل نہیں، اس لیے بچے کو رقم کے عوض لینا جائز نہیں۔ لہذا جو شخص رقم دے کر بچہ لینا چاہتا ہے اور جو شخص رقم لے کر بچہ دینا چاہتا ہے، دونوں کے لیے یہ معاملہ کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ البتہ بغیر کسی عوض کے بچہ گود لینا جائز ہوگا اور اس معاملے سے الگ اگر زکوۃ و صدقات کی مد میں مذکورہ خاندان کی مالی امداد کی جائے تو باعثِ اجر و ثواب ہوگا۔
​(2) نومولود جس عورت کی زیرِ کفالت ہوگا، اگر اس عورت نے مدتِ رضاعت (اڑھائی سال کے اندر) میں اسے دودھ پلایا تو وہ اس بچے کی رضاعی والدہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے محرم ہوگی۔ اور اگر اسے دودھ نہ پلایا تو رضاعی والدہ نہ ہونے کی بنا پر وہ عورت اس بچے کے لیے غیر محرم ہوگی، تاہم غیر محرمیت کے احکام بلوغت کے بعد لاگو ہوں گے۔

واللہ اعلم بالصواب​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
ستمبر 18, 2026 @ 08:52شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں