قصر نمازیں ایک وقت میں جمع کرنا

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0540
سوال

سفر کے دوران کون کون سی قصر نمازیں ایک ہی وقت میں پڑھی جاسکتی ہیں؟

جواب

سفر کے دوران بھی نمازیں اپنے اپنے اوقات ہی میں پڑھی جائیں گی۔ کسی نماز کا وقت اگر شروع نہیں ہوا تو اس کو وقت سے پہلے نہیں پڑھا جاسکتا۔ دو نمازوں کو ایک وقت میں، ظہر عصر کو ظہر کے وقت میں اور مغرب عشا کو عشا کے وقت میں حقیقی طور پر جمع کرنا صرف حج کے موقع پر ۹؍ ذوالحجہ کو جائز ہے۔ کسی دوسری جگہ جائز نہیں، البتہ جمع صوری بلا اختلاف جائز ہے کہ ظہر یا مغرب کو آخر وقت میں اور عصر/عشا کو اوّل وقت میں پڑھا جائے۔ یہ بھی مرض/سفر کے عذر کے وقت ہے۔ ورنہ نماز کو آخر وقت تک لیٹ کرنا مکروہ ہے۔ نیز ہمارے بعض مشائخ اور اساتذہ کے نزدیک نماز ِظہر اور نماز ِعصر کو مثل ثانی میں اور نماز ِمغرب و عشا شفق دوم (جب کہ مغرب کی سمت میں سرخی ختم ہوکر سفیدی شروع ہوجائے۔) کے وقت اکٹھا پڑھنے کی صرف مسافروں اور بیمار معذوروں کے لیے گنجائش ہے۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
ستمبر 16, 2026 @ 07:34شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں