زمره
فتوی نمبر
سوال
کیا فرماتے علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ ہمارے ایک دوست نصیر احمد جو کہ یکم مئی 2026 کو وفات پا گئے تھے۔ ان کی چھ بیٹیاں اور ایک بیوی ہے۔ انہوں نے پچھلے سالوں میں اپنی ذاتی دکان، ذاتی مکان اور کیش اپنی چھ بیٹیوں میں تقسیم کر دیا۔ سوائے ایک انوسٹمنٹ کے جس کی مالیت 45 لاکھ ہے جو کہ ہمارے پاس ورائٹی سنٹر پر موجود ہے۔ اس رقم کے بارے میں انہوں نے 28 جنوری 2026 کو وصیت لکھی کہ یہ رقم ان کے فوت ہونے کے بعد ان کی بڑی بیٹی عظمٰی کو دے دی جائے۔ یہ وصیت نامہ انہوں نے بیٹی عظمٰی کے حوالے کر دیا اور ہمیں اس کا فوٹو کھینچ کر واٹس ایپ کر دیا۔ فوتگی سے پہلے مرض الوفات میں ان کو اس بات کی طرف توجہ بھی دلائی گئی کہ انہوں نے بیوی کا کوئی بندوبست نہیں کیا تو انہوں نے کہا کہ ہاں یہ غلطی ہو گئی ہے، میں کچھ کرتا ہوں۔ لیکن وہ نئی وصیت کرنے سے پہلے فوت ہوگئے۔
دریافت طلب امور یہ ہیں کہ:
(1) اس 45 لاکھ کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے، جس کی وصیت موجود ہے اور جس کے نام وصیت ہے اسی کے پاس ہے؟
(2) آیا ہم یہ رقم شرعی حصص کے مطابق تقسیم کریں یا وصیت کے مطابق؟
(3) اس میں اصل مسئلہ باقی بہنوں کا نہیں ہے بلکہ وہ تو اپنا حصہ چھوڑنے کو بھی تیار ہیں۔ اصل مسئلہ فوت ہونے والے دوست کی بیوہ کا ہے، جس کے مستقل خرچے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔
(4) اسی طرح 30 اپریل 2026 تک 4 ماہ کا نفع جو پونے تین لاکھ سے تقریباً تین لاکھ بنتا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس سے متعلق مرحوم کی کوئی وصیت موجود نہیں ہے۔
جواب
بر بنائے صحتِ صورتِ مسئولہ، مرحوم نے اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی، اصولاً وہ بلا تفریق تمام ورثاء میں تقسیم ہونی چاہیے تھی تاہم اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں جائیداد کا کوئی حصہ بیٹیوں کے قبضے میں دے دیا تھا تو وہ ھبہ کے طور پر ان کی ملکیت میں منتقل ہو گیا ہے اور اب مرحوم کی وفات کے بعد وہ ترکہ شمار نہیں ہوگا۔
45 لاکھ روپے کی رقم کے بارے میں جو وصیت کی گئی ہے، وہ شرعاً کالعدم ہے، اس لیے کہ وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی۔ یہ رقم تمام زندہ ورثاء میں تقسیم ہوگی.
مرحوم کے ورثاء میں چھ بیٹیاں اور بیوہ ہیں، چنانچہ دو تہائی چھ بیٹیوں کو اور آٹھواں حصہ بیوہ کو ملے گا۔ کل چوبیس حصے بنائیں گے: سولہ حصے بیٹیوں کو، تین حصے بیوہ کو، اور باقی پانچ حصے — اگر مرحوم کے بھائی ہیں تو ان کو ملیں گے، بصورتِ دیگر وہ بھی بیٹیوں کو مل جائیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو %12.5 اور ہر بیٹی کو %14.58 وراثت میں حصہ ملے گا۔
(یہ حصہ اسی صورت میں ہوگا جب مرحوم کے مذکورہ ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہ ہو۔)
الحاصل:
(1) وفات کے وقت مرحوم کی ملکیت میں موجود 45 لاکھ روپے ترکہ ہیں۔
(2) بیٹی عظمیٰ کے نام مرحوم کی وصیت محض وصیت نامے کی بنیاد پر نافذ نہیں ہوگی، کیونکہ عظمیٰ خود وارث ہیں۔
(3) اگر تمام بالغ ورثاء وفات کے بعد اپنی آزادانہ رضامندی سے اس وصیت کو منظور کریں تو وہ اپنے اپنے حصے وصول کرنے کے بعد اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
(4) اگر کوئی دوسرا مؤثر وارث موجود نہ ہو تو 45 لاکھ روپے میں سے بیوہ کو 5,62,500 روپے اور ہر بیٹی کو 6,56,250 روپے بطور وارث حاصل ہوں گے۔
(5) اگر 30 اپریل 2026 تک حاصل ہونے والے تقریباً 3 لاکھ روپے بھی وفات سے پہلے مرحوم کی ملکیت میں آچکے تھے تو وہ بھی ترکہ میں شامل ہوں گے، اور کل ترکہ 48 لاکھ روپے ہوگا۔ اس صورت میں بیوہ کو 6,00,000 روپے اور ہر بیٹی کو 7,00,000 روپے ملیں گے ۔
(6) مرحوم کی سابقہ دکان، مکان اور نقد رقم اگر زندگی میں باقاعدہ ہبہ کر کے بیٹیوں کو قبضہ اور مالکانہ تصرف دے دیا گیا تھا تو وہ ترکہ میں شامل نہیں ہوں گے؛ اور اگر قبضہ و ملکیت منتقل نہیں ہوئی تھی تو ان اموال کا بھی ترکہ میں شامل ہونا ضروری ہوگا۔
(7) گو مرحوم نے زندگی میں اپنی بیوی کے لیے اخراجات کا کوئی الگ انتظام نہیں کیا، لیکن مناسب ہوگا کہ بیٹیاں اپنی والدہ کے مستقل اخراجات کے انتظام کے لیے اپنے حصوں میں سے باہمی رضامندی سے والدہ کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کریں ۔
واللہ أعلم بالصواب
