رفاہی کاموں کی زکوۃ کی رقم خرچ کرنا

زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0541
سوال

ایک شخص نے اپنی دکان کے باہر پانی کا کولر لگایا ہوا ہے۔ کیا پانی کے اخراجات زکوۃ کی مد میں کاٹنے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی؟

جواب

زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کسی مستحقِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ کے مال کا مالک بنانا ضروری ہے، جسے فقہ کی اصطلاح میں ”تملیک“ کہا جاتا ہے تاکہ وہ شخص اپنے منشا کے مطابق اپنی ضروریات میں استعمال کرسکے، اس لیے محض کسی رفاہی یا خیراتی کام میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کردینا، جبکہ کسی مستحق کو اس مال کا مالک نہ بنایا جائے، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔
لہٰذا دکان کے باہر نصب کیے گئے پانی کے کولر کے پانی، بجلی یا دیگر اخراجات زکوٰۃ کی رقم سے ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی؛ کیونکہ اس صورت میں زکوٰۃ کے مال کی تملیک کسی مستحقِ زکوٰۃ کو نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ ایسے کولر سے عموماً مستحق اور غیر مستحق دونوں افراد بلا تخصیص استفادہ کرتے ہیں، اس لیے زکوٰۃ کی رقم کو اس عمومی مصرف میں خرچ کرنا شرعی ادائیگیِ زکوٰۃ کے لیے کافی نہیں۔
البتہ اگر زکوٰۃ کی رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو غیر مشروط طور پر باقاعدہ مالک بنا کر دے دی جائے، تو زکوٰۃ ادا ہوگی۔ بعد ازاں اگر وہ اپنی رضامندی سے اس رقم کو پانی پلانے یا کسی دوسرے جائز مصرف میں خرچ کردے، تو زکوٰۃ کی ادائیگی متاثر نہیں ہوگی۔

واللہ أعلم بالصواب

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
ستمبر 14, 2026 @ 02:03شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں