خریداری کرنے پر بذریعہ قرعہ اندازی انعام کا حکم

زمره
بیوعات و معاملات
فتوی نمبر
0537
سوال

ہم زرعی ادویات کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس میں ہم سیل پالیسی بنا کر ڈیلرز کو دیتے ہیں اور ڈیلرز اس پالیسی کی بنیاد پر ہمارے ساتھ کاروبار کرتے ہیں۔ اس میں ہم ایک دوائی کا ریٹ دیتے ہیں، مثلاً یہ کہ اگر آپ 60,000 ہزار روپے دیں گے تو آپ کو 200 لیٹر زرعی دوائی دیں گے اور آپ کو ایک کوپن دیں گے، جس پر قرعہ اندازی ہوگی۔ اس میں آپ کا انعام نکل بھی سکتا ہے اور نہ بھی۔ انعام ایک ہزار سے لے کر لاکھوں روپے کی مالیت کا ہوسکتا ہے۔ اس میں امیدوار زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ نفع زیادہ حاصل ہوجاتا ہے۔ اس نفع سے کوپن کی قرعہ اندازی کی جاتی ہے۔ جناب والا سے عرض ہے کہ اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ طریقہ کار صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

​زرعی ادویات کمپنی کی طرف سے اپنے ڈیلرز کو قرعہ اندازی کے ذریعہ انعامات دینے کے لیے درج ذیل شرائط کی پابندی ضروری ہے:
​(1) ادویات کی قیمت عام بازاری قیمت (Market rate) کے مطابق ہو، انعام کی وجہ سے ادویات کی عام قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جائے۔
​انعامی سکیم کے سبب اگر ادویات کی قیمت عام قیمت سے زیادہ رکھی جائے تو گویا ڈیلرز انعام کی لالچ میں آکر ادویات مہنگے داموں خریدیں گے، جب کہ انعام کا ملنا بھی موہوم اور غیر یقینی ہے، لہذا اس طرح کا معاملہ جوئے (قمار) کے مشابہ ہونے کے سبب ناجائز ہوگا۔
​(2) ادویات کمپنی اپنی مصنوعات کا معیار (Quality of products) بھی ناقص نہیں کرے گی۔ ایسا نہ ہو کہ انعام کی لالچ دے کر ڈیلرز کو ناقص اور غیر معیاری ادویات فروخت کی جائیں۔
​لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شرائط کی مکمل پابندی کی جائے تو زرعی ادویات کمپنی کا اپنے ڈیلرز کو قرعہ اندازی کے ذریعہ انعامات دینا از روئے تبرع (ہدیہ) جائز ہوگا، لیکن اگر مذکورہ شرائط مفقود ہوں تو ایسا معاملہ شرعاً ناجائز ہوگا۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
ستمبر 05, 2026 @ 07:38صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں