والدہ، بہن، چچا زاد بھائیوں اور پھوپھی کے درمیان تقسیم ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0526
سوال

اسما رحمن (جو کہ مطلقہ تھیں اور ان کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے) کا انتقال 2023 میں ہوا ہے۔ ان کے والد کا انتقال اپریل 2014 میں ہو گیا تھا، ایک بھائی جو کہ غیر شادی شدہ تھا، اس کا بھی انتقال 1998 میں ہوا تھا۔ والدہ ابھی تک حیات ہیں، ایک ہمشیرہ زندہ تھیں اور ان کا انتقال جنوری 2024 میں ہوا، ایک پھوپھی جو ان کی وفات کے وقت حیات تھیں، 4 چچا زاد بھائی جو کہ ابھی حیات ہیں۔
براہ کرام ان کی وراثت کی شرعی تقسیم کا طریقہ کار بتا دیں اور اس تقسیم سے متعلقہ حوالہ بھی عنایت فرمائیں۔​​​

جواب

مرحومہ کا ترکہ ادائے قرض اور نفاذ وصیت از تہائی مال چوبیس حصوں میں تقسیم ہوگا آٹھ حصے (%33.33) والدہ کو ملیں گے اور 12 حصے (%50) بہن (عظمی بلال) کو ملیں گے اور باقی چار حصے چاروں چچا زاد بھائیوں کو ایک ایک (%4.17) کی نسبت سے ملیں گے۔
نوٹ : بہن چونکہ فوت ہوگئی ہے، لہذا اس کے ملنے والے حصص اس کے ورثا کو ملیں گے۔ پھوپھی چونکہ ذوی الارحام میں سے ہے اور عصبہ (چچازاد بھائیوں) کی موجودگی میں ذوی الارحام محروم ہوجاتے ہیں، اس لیے پھوپھی محروم ہوگی۔

متعلقہ حوالہ جات درج ذیل ہیں:
• ”فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ
(4۔ النساء: 11)

• ”یَسْتَفْتُوْنَكَ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَۚ
(4۔ النساء: 176)

​• عن ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ”ألحقوا ‌الفرائض ‌بأهلها، فما بقي فلأولى رجل ذكر“
(صحيح البخاري (دمشق، دار ابن كثير) كتاب الفرائض، باب: ميراث الجد مع الأب والإخوة، 2478/6، رقم : 6356)

​• ”وإنما يرث ذوو الأرحام إذا لم يكن أحد من أصحاب الفرائض ممن يرد عليه ولم يكن عصبة“
(عالمگیری، (بیروت، دار الفکر)، کتاب الفرائض، الباب العاشر فی ذوی الارحام، 459/6)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب​​

مقام
حسن ابدال
تاریخ اور وقت
ستمبر 02, 2026 @ 08:07شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں