نبی کریم ﷺ پر عورت کے کوڑا پھینکنے والے واقعے کی تحقیق

زمره
حدیث و سنت
فتوی نمبر
0532
سوال

کیا یہ واقعہ صحیح اور مستند ہے کہ ایک بوڑھی عورت نبی کریم ﷺ کے راستے میں روزانہ کچرا پھینکا کرتی تھی، پھر جب وہ بیمار ہوگئی تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے؟ کیا یہ واقعہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

​مذکورہ بالا واقعہ حدیث کی کسی مستند کتاب سے ثابت نہیں، لہذا اسے رسول اکرمﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا درست نہیں۔ البتہ مکی دور میں قریش کی جانب سے رسول اکرمﷺ کو پہنچائی جانے والی تکالیف اور اذیتوں کا ذکر معتبر کتبِ سیرت میں موجود ہے۔
سیرت النبیﷺ کو محض مکی دور کی مظلومیت، صعوبتوں اور مصائب برداشت کرنے کے پہلو سے دیکھنا اس کے جامع پیغام کی مکمل ترجمانی نہیں۔ آپﷺ کا ان تمام صعوبتوں کو برداشت کرنے کا مقصد ایسی عظیم الشان جماعت کی تیاری تھی جو ظالمانہ نظاموں کی بیخ کنی کرتے ہوئے عادلانہ نظام کے قیام کا ذریعہ بنے۔ چنانچہ رسول اکرم ﷺ نے تمام مصیبتوں کو برداشت کرتے ہوئے جماعت صحابہ کی مکمل تعلیم و تربیت فرمائی، جس نے ظلم کے مقابلے کا شعور، حق بات پر استقامت، اجتماعی نظم اور باطل نظام کے مقابلے کی صلاحیت پیدا کی۔
 الغرض سیرت النبی  ﷺ کا صحیح مطالعہ انسان کو ظلم سہنے کا عادی نہیں بناتا، بلکہ اس کے مقابلے میں شعوری بنیادوں پر ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے منظم و مؤثر کردار ادا کرنے کی حکمت عملی عطا کرتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب​

مقام
پشاور
تاریخ اور وقت
اگست 30, 2026 @ 08:46صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں