سجدہ سہو کب واجب ہوتا ہے؟

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0524
سوال

​سجدہ سہو کب واجب ہوتا ہے؟

جواب

نماز میں سجدہ سہو کے وجوب کے کئی اسباب ہیں۔ بہتر ہے کہ پیش آنے والے مسئلے کو تحریراً لکھ کر بھیج دیا جائے تاکہ اس کے مطابق حکم بتایا جاسکے۔ تاہم درج ذیل نکات کی صورت میں سجدہ سہو کے وجوب کے اسباب کا احاطہ کیا جاسکتا ہے:

(1) واجب کا چھوٹ جانا
​جیسے فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ کسی بھی نماز کی کسی بھی رکعت میں سورۂ فاتحہ یا سورت چھوٹ جائے

(2) واجب کی ادائیگی میں تاخیر ہوجانا
​جیسے سورۂ فاتحہ کے بعد ایک رکن (تین بار سبحان اللہ) کے بقدر خاموش رہنے کی وجہ سے سورت پڑھنے میں تاخیر ہوجائے

(3) واجب کی حالت بدل دینا
​جیسے ظہر اور عصر میں جہراً (بلند آواز سے) جبکہ مغرب، عشاء اور فجر میں سراً (آہستہ آواز میں) قراءت کرلی

(4) فرض کی ادائیگی میں تاخیر ہوجانا
جیسے قعدہ اولی میں تشہد کے بعد درود شریف ”اللھم صل علی محمد“ تک پڑھنے یا اس سے زیادہ پڑھنے کی وجہ سے تیسری رکعت کے قیام میں تاخیر ہوجائے

(5) فرض کو اپنے اصل محل سے پہلے ادا کرنا
​جیسے رکوع سے پہلے سجدہ کرلیا

(6) فرض کا تکرار کرنا
​جیسے ایک رکعت میں دو دفعہ رکوع کرلیا

نیز یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ درج بالا اسباب کو اگر جان بوجھ کر اختیار کیا جائے تو سجدہ سہو سے ان کا تدارک نہیں ہوگا، بلکہ ایسی صورت میں نماز کو نئے سرے سے دہرانا ضروری ہوگا۔ اسی طرح اگر نماز کا کوئی فرض رکن چھوٹ جائے، تب بھی سجدہ سہو اس کی تلافی نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس، نماز کی سنتیں اور مستحبات چھوٹ جانے کی صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا اور نماز درست رہتی ہے۔

مقام
حسن ابدال
تاریخ اور وقت
اگست 30, 2026 @ 03:04شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں