قرض واپس نہ ملنے پر مرتہن کا مرہونہ چیز فروخت کرنا

زمره
غصب و رہن
فتوی نمبر
0523
سوال

اگر کوئی شخص اپنے دوست کے پاس سونے کے زیورات بطورِ گروی رکھ کر ان کی مالیت کے برابر یا زیادہ رقم بطورِ قرض لے اور واپسی کی تاریخ مقرر کر لے، تو کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ نیز، اگر مقررہ تاریخ پر قرض ادا نہ ہو سکے اور قرض خواہ وہ سونا فروخت کر کے اپنا قرض وصول کر لے، تو سونے کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے قرض کی اصل رقم سے زائد حاصل ہونے والی رقم کا کیا حکم ہوگا، اور کیا وہ سود کے زمرے میں آئے گی؟

جواب

​زیورات کو بطور گروی (رہن) رکھ کر ان کی مالیت کے برابر یا زائد رقم بطور قرض لینا اور واپسی کے لیے ایک تاریخ مقرر کرنا شرعاً جائز ہے۔ اگر مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد مرتہن/ قرض خواہ ادائیگی کے مطالبے کے بعد مہلت دینے پر آمادہ نہ ہو، تو وہ سونے کو راہن/ مقروض کی اجازت سے فروخت کرسکتا ہے اور اپنی رقم وصول کرسکتا ہے۔ اگر سونے کی قیمت قرض سے زائد ہو تو زائد رقم قرض دار کو واپس کی جائے گی۔ اس زائد رقم کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں۔
​اگر ممکن ہو تو مرتہن کی جانب سے راہن کو ادائیگی کے لیے مہلت دینا شرعاً پسندیدہ اور موجبِ اجر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
 ”جو شخص مفلس (تنگ دست) کو مہلت دے تو ادائیگی کا دن آنے تک اس کو ہر دن کے بدلے، اس کے قرض کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔ پھر جب ادائیگی کا دن آئے اور وہ پھر اسے مہلت دے دے تو اس کو ہر دن کے بدلے اس کے قرض کی دگنی مقدار کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے“۔(1)


(1) مسند الامام احمد بن حنبل، (مؤسسۃ الرسالہ) 153/38، رقم: 23046

مقام
ملتان
تاریخ اور وقت
اگست 29, 2026 @ 08:53شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں