زمره
فتوی نمبر
سوال
(1) عبد الرحمن صاحب کی وفات 2014 میں ہوئی۔ ان کے ورثاء میں ایک بیوہ، دو بیٹیاں، ایک حقیقی بہن اور چار بھتیجے ان کی وفات کے وقت زندہ تھے اور بعد میں سب فوت ہوگئے۔ براہ مہربانی ان کی وراثت کی تقسیم کا طریقہ کار بتا دیں۔
(2) کیا وراثت میں صرف زمین جائیداد شامل ہوتی ہے یا گاڑی، لباس اور دیگر اشیاء بھی وراثت کے اصول کے تحت تقسیم ہوتی ہیں؟
جواب
(1) مرحوم کا ترکہ ادائے قرض اور نفاذ وصیت از تہائی مال چوبیس حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے بیوی کو تین حصے (%12.49)، دو بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو آٹھ حصے (%33.33) ملیں گے۔ باقی پانچ حصے (%20.83) عصبہ ہونے کی وجہ سے حقیقی بہن کو ملیں گے اور بھتیجے بہن کی موجودگی میں محروم ہو جائیں گے۔
نوٹ : تمام فوت شدہ ورثاء کے حصص ان کے اپنے شرعی ورثا کے درمیان ان کے حصص کے بقدر تقسیم ہوں گے۔
(2) ترکہ کا اطلاق ہر اس منقولی و غیر منقولی چیز پر ہوتا ہے جو میت کی ذاتی ہو، لہذا میت نے جو کچھ (بشمول گھر، کپڑے، گاڑی) چھوڑا ہے وہ اس کا ترکہ شمار ہوگا اور میت کے ورثا کے درمیان مذکورہ بالا حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔
گھر اور گاڑی وغیرہ کی تقسیم کی ایک صورت یہ ہے کہ ان کو فروخت کرکے اس کے پیسے تقسیم کرلیے جائیں یا پھر کوئی وارث انہیں اپنے پاس رکھ کر باقی ورثا کو ان کے حصص کے بقدر پیسے دے۔
واللہ اعلم بالصواب
